خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 543
خطبات مسرور جلد 11 543 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 4اکتوبر 2013ء وجہ سے غصہ پیدا ہوتا ہے۔فرمایا: ” کیونکہ غضب اُس وقت ہوگا جب انسان اپنے نفس کو دوسرے پر ترجیح دیتا ہے۔انسان اپنے آپ کو کچھ سمجھنے لگ جاتا ہے۔”میں نہیں چاہتا کہ میری جماعت والے آپس میں ایک دوسرے کو چھوٹا یا بڑا سمجھیں، یا ایک دوسرے پر غرور کریں یا نظر استخفاف سے دیکھیں۔یعنی کسی کو اپنے آپ سے کم سمجھیں ” خدا جانتا ہے کہ بڑا کون ہے یا چھوٹا کون ہے۔یہ ایک قسم کی تحقیر ہے۔جس کے اندر حقارت ہے ڈر ہے کہ یہ حقارت بیج کی طرح بڑھے اور اس کی ہلاکت کا باعث ہو جائے۔اگر یہ حقارت دل میں رکھی تو جس طرح ایک بیج بویا جاتا ہے اور بڑھتا ہوا پودا بن جاتا ہے اور پھر درخت بن جاتا ہے، اسی طرح یہ حقارت بڑھے گی اور جب یہ حقارت بڑھے گی تو انسان کو ہلاک کر دے گی۔فرمایا کہ: بعض آدمی بڑوں کو مل کر بڑے ادب سے پیش آتے ہیں۔“ بڑوں کو ملے ، بڑے ادب سے پیش آئے ، بڑی خوش اخلاقی کا مظاہرہ کیا۔لیکن بڑا وہ ہے جو مسکین کی بات کو مسکینی سے سنے۔اس کی دلجوئی کرے۔اس کی بات کی عزت کرے۔کوئی چڑ کی بات منہ پر نہ لاوے کہ جس سے دکھ پہنچے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تَنَابَزُو بِالْأَلْقَابِ بِئْسَ الْاِسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيْمَانِ وَمَنْ لَّمْ يَتُبْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظلِمُونَ (الحجرات : 12) تم ایک دوسرے کا چڑ کے نام نہ لو۔یہ فعل فستاق وفجار کا ہے۔اُن لوگوں کا ہے جو دین بھولنے والے ہیں اور دور ہٹنے والے ہیں۔”جو شخص کسی کو چڑاتا ہے وہ نہ مرے گا جب تک وہ خود اسی طرح مبتلا نہ ہو گا۔اپنے بھائیوں کو حقیر نہ سمجھو۔جب ایک ہی چشمہ سے گل پانی پیتے ہو تو کون جانتا ہے کہ کس کی قسمت میں زیادہ پانی پینا ہے۔“ ہیں تو ہم سب اللہ تعالیٰ کے بندے، جب وہی اللہ تعالیٰ کے فضل ہی سب کو ملے ہیں تو کیا پتہ اللہ تعالیٰ کے فضل کس پر زیادہ ہوتے ہیں۔مکرم ومعظم کوئی دنیاوی اصولوں سے نہیں ہوسکتا۔خدا تعالیٰ کے نزدیک بڑا وہ ہے جو متقی ہے۔اِنَّ اكْرَمَكُمْ عِنْدَ الله اتقكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيْمٌ خَبِيرٌ (الحجرات:14) د ( ملفوظات جلد اول صفحہ 22-23- مطبوعہ ربوہ ) پھر ایک موقع پر جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ: ”اللہ تعالیٰ کسی کی پرواہ نہیں کرتا مگر صالح بندوں کی۔آپس میں اخوت اور محبت کو پیدا کرو اور درندگی اور اختلاف کو چھوڑ دو۔ہر ایک قسم کے ہنرل اور تمسخر سے کنارہ کش ہو جاؤ، کیونکہ تمسخر انسان کے دل کو صداقت سے دُور کر کے کہیں کا کہیں پہنچا دیتا ہے۔آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ عزت سے پیش آؤ۔ہر ایک اپنے آرام پر اپنے بھائی کے آرام کو ترجیح دیوے۔یہ بہت بڑی بات ہے۔اللہ تعالیٰ سے ایک سچی صلح پیدا کر لو۔“ اللہ تعالیٰ سے کوئی