خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 47
خطبات مسرور جلد 11 47 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 جنوری 2013ء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے عاشق صادق کو ایک جان ہونے کی صورت میں دکھایا۔جیسا کہ میں نے سلسلہ شروع کیا ہوا ہے۔آج بھی میں اُن لوگوں کی چند خواہیں پیش کروں گا جن کی مختلف رنگ میں اللہ تعالیٰ نے رہنمائی فرمائی اور پھر ایسے بھی ہیں جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خوابوں میں دیکھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مسیح کے بارے میں بعض کو بتایا کہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کیا مقام تھا اور کس طرح یہ جری اللہ آیا جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو پھیلانے کے لئے اس زمانے میں کام کیا ؟ اس کی بھی بعض مثالیں ہیں۔حضرت مرزا محمد افضل صاحب ولد مرزا محمد جلال الدین صاحب فرماتے ہیں۔ان کا بیعت کا سن 1895ء ہے اور زیارت انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی 1904 ء میں کی اور وہیں دستی بیعت کی۔کہتے ہیں کہ غالباً 1876 عیسوی کے ادھر اُدھر میرے والد منشی محمد جلال الدین صاحب اول الاصحاب البدر۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جبکہ وہ نوشہرہ چھاؤنی میں تھے۔(مسیح کے بارے میں یہ بھی آتا ہے کہ اُس کے تین سو تیرہ (313) اصحاب ہوں گے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مختلف جگہوں پر آئینہ کمالات اسلام میں بھی اور انجام آتھم میں بھی 313 صحابہ کا ذکر کیا ہے جن کو حدیث کے مطابق بدر کے صحابہ کے نام سے موسوم کیا ہے، اُن میں مرزا محمد افضل صاحب کے والد یہ منشی جلال الدین صاحب بھی تھے۔تو کہتے ہیں) جبکہ وہ نوشہرہ چھاؤنی میں تھے ایک مبشر خواب کی بناء پر جو متواتر تین روز دیکھا۔مجھے ( یعنی ان کو ، مرزا افضل صاحب کو جو کہتے ہیں اُس وقت میں خوردسال ہی تھا، چھوٹا سا تھا ) ایک دوست کے حوالے کر کے مہدی موعود کی تلاش میں رخصت لے کر نکلے۔جہلم کے مقام پر انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کسی کتاب کا اشتہار ملا۔مطالعہ کیا اور منزلِ مقصود کی طرف روانہ ہوئے۔قادیان ایک گمنام گاؤں تھا۔پوچھ پوچھ کر وہ بٹالہ پہنچے مگر یہاں میاں صاحب بٹالہ کے ایماء پر ( شاید وہاں کسی صاحب نے اُن کو روکا یا بددل کیا ہو گا ، وہ واپس چلے گئے بہر حال ) واپس چلے گئے۔(فوج میں تھے ) اور اس کے بعد کابل لڑائی پر چلے گئے۔وہاں سے واپسی پر ایک نادم دل کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔حضرت صاحب نے دیکھتے ہی فرمایا کیا آپ وہی منشی جلال الدین صاحب ہیں جن کے کابل سے خط آتے تھے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 6 صفحہ 224 از روایات حضرت مرزا محمد افضل صاحب) (ان کو اللہ تعالیٰ نے کئی دفعہ رہنمائی فرمائی تھی لیکن پھر بھی کیونکہ مخالفین تو روڑے اٹکانے والے