خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 46
خطبات مسرور جلد 11 46 4 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 جنوری 2013ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسروراحمد خلیفہ السیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 25 جنوری 2013ء بمطابق 25 صلح 1392 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح - لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اور مقام کو دنیا میں قائم کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرمایا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : ”خدا نے اپنے رسول نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی اتمام حجت میں کسر نہیں رکھی۔وہ ایک آفتاب کی طرح آیا اور ہر ایک پہلو سے اپنی روشنی ظاہر کی۔پس جوشخص اس آفتاب حقیقی سے منہ پھیر تا ہے اُس کی خیر نہیں۔ہم اس کو نیک نیت نہیں کہہ سکتے۔فرمایا: ” یادر ہے کہ توحید کی ماں نبی ہی ہوتا ہے جس سے توحید پیدا ہوتی ہے اور خدا کے وجود کا اس سے پتہ لگتا ہے۔فرمایا : ” اور خدا تعالیٰ سے زیادہ اتمام حجت کو کون جانتا ہے۔اُس نے اپنے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی سچائی ثابت کرنے کے لئے زمین و آسمان کو نشانوں سے بھر دیا ہے۔اور اب اس زمانہ میں بھی خدا نے اس ناچیز خادم کو بھیج کر ہزار ہا نشان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کے لئے ظاہر فرمائے ہیں جو بارش کی طرح برس رہے ہیں۔تو پھر اتمام حجت میں کونسی کسر باقی ہے۔(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 180-181) گویه نشان مختلف صورتوں میں آج بھی ظاہر ہورہے ہیں لیکن آخرین کی وہ جماعت جس نے براہ راست حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے فیض پایا، اللہ تعالیٰ نے اُن کی رہنمائی کی، اُن کو نشانات دکھائے، خوابوں کے ذریعہ سے اُن کو صحیح ہدایت کے رستے کی طرف ڈالا اور انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آنے کے لئے پھر ہر طرح کی قربانی بھی دی۔اُن میں سے ایسے بھی تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے