خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 516 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 516

خطبات مسرور جلد 11 516 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 ستمبر 2013ء کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، ( حدیث قدسی ہے ) کہ اے میرے بندو! میں نے اپنی ذات پر ظلم حرام کر رکھا ہے اور تمہارے درمیان بھی اُسے حرام کر رکھا ہے۔پس تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔(صحیح مسلم كتاب البر والصلة والآداب باب تحریم الظلم حدیث (6572 پس اگر خدا تعالیٰ کے مؤاخذہ سے بچنا ہے تو اپنے فرائض ادا کرتے رہو، باقی حکام کا معاملہ اللہ کے ساتھ ہے اور دعاؤں میں لگے رہو۔اور پھر اسی طرح جیسا کہ میں نے کہا حکام کا جو کفر ہے، یہ بھی واضح شرعی احکام کی واضح طور پر خلاف ورزی ہو تب نہیں ماننا۔اپنی تو جیہات نہیں دینی۔جس طرح پاکستان میں مثلاً احمدیوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔کہا جاتا ہے کلمہ نہیں پڑھنا، نماز نہیں پڑھنی ، سلام نہیں کہنا۔ہم مسلمان ہیں ہم یہ کہتے ہیں اور یہ ہمیں روکنے والے یہ شریعت کے احکام کی ، قرآن کریم کے احکام کی خلاف ورزی ہم سے کروانا چاہتے ہیں، وہ نہیں کرنی۔اس کے علاوہ جو ملکی قانون ہیں اُس کی پابندی کرنی ہے۔پس تمام تعلیم کا خلاصہ یہ آخری حدیث میں ہے کہ ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔نہ حکام رعایا پر ظلم کریں، نہ رعا یا حکام سے اپنا حق لینے کے لئے اُن پر کوئی ایسی کارروائی کرے جس سے ظلم ثابت ہوتا ہو۔اب یہ کام حکام اور رعایا دونوں کا ہے کہ دیکھیں کیا وہ اس تعلیم پر عمل کر رہے ہیں۔کیا احکام جو ہیں انصاف کے اعلیٰ معیاروں کو چھورہے ہیں؟ کیا اپنے ہر فیصلے پر اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر اُس کی تعلیم پر عمل کر رہے ہیں؟ اسی طرح کیار عا یا جو ہے سوائے کسی حاکم کے خدا تعالیٰ کے واضح شرعی احکامات کی خلاف ورزی کرنے کے حکم کے ، جو باقی احکام ہیں اُس پر سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا کہہ کر عمل کرنے والی ہے؟ کیا ظالم حکمرانوں کے خلاف صرف اپنے رب کے سامنے رونے والے ہیں ؟ اگر آج کوئی یہ کرنے والے ہیں تو شاید احمدیوں کے علاوہ اور کوئی نہیں ہوگا۔اگر نہیں تو ہم پھر اس حالت میں اور اس زمانے میں واپس چلے جائیں گے جو ظهر الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْر کا زمانہ تھا۔اور مسلمانوں پر یہ زمانہ آنا بھی تھا۔قرآن کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق مسیح موعود اور مہدی معہود کے زمانے میں بھی ایسے حالات ہی پیدا ہونے تھے۔پس مسلمان حکمرانوں کو بھی اور رعایا کو بھی اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ فسادوں کو دُور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے کو تلاش کریں اور اُس کے دامن کو پکڑیں۔شام کے لوگ خاص طور پر اور مسلمان عموماً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صرف اسی الہام پر غور کر لیں کہ بلائے دمشق ( تذکرہ صفحہ نمبر 603 ایڈیشن چہارم مطبوعہ ربوہ) تو اُن کو پتہ چل