خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 515 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 515

خطبات مسرور جلد 11 515 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 ستمبر 2013ء با وجود حاکموں کو اُن کا حق ادا کرو ) اور تم اپنا حق اللہ سے مانگو۔(صحیح البخاری کتاب الفتن باب قول النبی السترون بعدی اموراتنكرونها حديث 7052) پس یہ ہڑتالیں اور خون خرابہ جو ہے، یہ حقوق لینے جو ہیں اس کی تو اجازت نہیں ہے۔اگر اللہ تعالیٰ سے حق مانگا جائے تو اللہ تعالیٰ پھر ایسے فیصلے فرماتا ہے کہ دنیا کی نظر بھی وہاں نہیں پہنچ سکتی۔پھر ایک روایت میں ہے، ایک صحابی نے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ یا رسول اللہ! اگر ہم پر ایسے حکمران مسلط ہوں جو ہم سے اپنا حق مانگیں مگر ہمارا حق ہمیں نہ دیں تو ایسی صورت میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ ( مجھ سے بھی جو عرب دنیا کے احمدی ہیں وہ پوچھتے رہتے ہیں ) تو رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اعراض کیا۔اُس نے اپنا سوال پھر دہرایا۔آپ نے پھر اعراض کیا۔اُس نے دوسری یا تیسری دفعہ پھر اپنا سوال دہرایا جس پر اشعث بن قیس نے انہیں پیچھے کھینچا۔یعنی خاموش کروانے کی کوشش کی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سوال پسند نہیں آیا تم پیچھے آجاؤ، نہ کرو یہ سوال۔تب رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسے حالات میں اپنے حکمرانوں کی بات سنو اور ان کی اطاعت کرو۔جوذ مہ داری اُن پر ڈالی گئی ہے اُن کا مؤاخذہ اُن سے ہوگا اور جو ذمہ داری تم پر ڈالی گئی ہے اُس کا مؤاخذہ تم سے ہوگا۔(صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب فى طاعة الامراء وان منعوا الحقوق حدیث نمبر (4782 پھر ایک حدیث ہے۔جنادہ بن ابی امیہ نے کہا کہ ہم عبادہ بن صامت کے پاس گئے۔وہ بیمار تھے۔ہم نے کہا اللہ تمہارا بھلا کرے۔ہم سے ایسی حدیث بیان کرو جو تم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سنی ہو، اللہ تم کو اُس کی وجہ سے فائدہ دے۔انہوں نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو بلا بھیجا۔ہم نے آپ سے بیعت کی۔آپ نے بیعت میں ہمیں ہر حال میں خواہ خوشی ہو یا نا خوشی ہنگی ہو یا آسانی ہو اور حق تلفی میں بھی یہ بیعت لی کہ بات سنیں گے اور مانیں گے۔آپ نے یہ بھی اقرار لیا کہ جو شخص حاکم بن جائے ہم اُس سے جھگڑا نہ کریں سوائے اس کے کہ تم اعلانیہ اُن کو کفر کرتے دیکھو جس کے خلاف تمہارے پاس اللہ کی طرف سے دلیل ہو۔(صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب وجوب طاعة الامراء في غير معصية۔۔۔حديث 4771) کفر ایسا جس کی دلیل واضح طور پر موجود ہونی چاہئے۔یہ نہیں کہ کفر کے فتوے لگا دیئے جس طرح آجکل کے علماء لگا دیتے ہیں۔حضرت ابوذر بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بتایا