خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 483 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 483

خطبات مسرور جلد 11 483 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 اگست 2013ء یہاں سامان کئے۔گزشتہ خطبہ میں میں نے ایک حدیث کے حوالے سے کارکنان کو کہا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ ایک دوسرے سے خندہ پیشانی سے پیش آؤ اور اس کی بہت ہدایت فرمائی اور اسے بڑی نیکی قرار دیا ہے کہ ایک دوسرے سے خندہ پیشانی سے پیش آنا بہت بڑی نیکی ہے۔(صحیح مسلم كتاب البر والصلة والآداب باب استحباب طلاقة الوجه عند اللقاء حديث نمبر 6690) پس یہ ہدایت ہر احمدی کے لئے ہے۔ہر آنے والے مہمان اور جلسے میں شامل ہونے والے کا بھی فرض ہے کہ وہ اس بات کو اپنے پلے باندھے، اس پر عمل کرنے کی کوشش کرے۔آپ لوگوں کا بھی فرض ہے کہ اگر کارکنوں سے کوئی غلطی ہو جائے تو صرف نظر سے کام لیں اور عارضی انتظام کی مجبوری کو سمجھیں۔ماحول کو خوشگوار بنانے کی کوشش کریں کیونکہ آپ کا یہاں آنا نیکیوں کے حصول کے لئے ہے اور ہونا چاہئے۔اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہے۔اسی طرح آپس میں مہمان جو ہیں، جو یہاں آنے والے ہیں وہ بھی ایک دوسرے کا احترام کریں۔بعض دفعہ ایسے مواقع پیدا ہو جاتے ہیں کہ آپس کی رنجشیں، جو پرانی رنجشیں ہوتی ہیں وہ ایک دوسرے کو یہاں آمنے سامنے دیکھ کر بھڑک جاتی ہیں۔بعض دفعہ ایسے موقعے بھی پیدا ہوتے ہیں جو ایک احمدی ماحول میں نہیں ہونے چاہئیں کہ جلسوں پہ آپس میں دو گروہوں کی ، دولوگوں کی تو تکار بھی ہو جاتی ہے، بعض دفعہ ہاتھا پائی ہو جاتی ہے، تو ایسے لوگوں کی یہ بدقسمتی ہے کہ وہ ایسے ماحول میں آ کر پھر ایسی حرکتیں کریں۔ایسے لوگ اس پاکیزہ ماحول کو گندہ کرنے کا باعث بن رہے ہوتے ہیں۔پس بہتر ہے کہ ایسے لوگ جن کے دل ایک دوسرے کے لئے کینوں اور بغضوں سے بھرے ہوئے ہیں جلسے پر نہ آئیں اور جو آئے ہوئے ہیں ان میں سے کسی کے دل میں اگر ایسی رنجش ہے تو آج یہ عہد کرے کہ اس کو دُور کر دے گا۔اس ماحول میں جو نیکیاں پھیلانے کا ماحول ہے، جوا اپنی حالتوں کو بدلنے کا ماحول ہے، اس میں اگر اپنے دلوں کو بغض اور کینوں سے بھر کر رکھنا ہے تو یہاں آنے کا مقصد فوت ہو جاتا ہے۔یہاں آنے کا مقصد تو نیکیاں کرنا ہے۔یہاں آنے والے کو اُس مقصد کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا چاہئے جس کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خواہش کی ہے۔ہمیشہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں کا وارث بننے کے مقصد کو اپنے سامنے رکھیں۔صرف اور صرف ربانی باتوں کا سننا اپنا مقصد رکھیں۔اور اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ ان دنوں میں خاص طور پر سب کے پیش نظر ہو۔پھر جلسہ کی کارروائی کو سنجیدگی سے اور غور سے سنا بھی ایک بہت بڑا مقصد ہے۔اس کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ