خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 482
خطبات مسرور جلد 11 482 35 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 اگست 2013ء خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت مرزا مسروراحمد خلیفہ السیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 30 اگست 2013 ء بمطابق 30 ظہور 1392 ہجری شمسی بمقام حدیقۃ المہدی۔(آلٹن) برطانیہ تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: گزشتہ خطبہ جمعہ میں میں نے مہمان نوازی کے حوالے سے ایک میزبان کی ذمہ داریوں کے بارے میں کچھ کہا تھا کہ یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کی ایک جوش اور جذبے سے خدمت کریں۔آج مختصر آ میں مہمانوں کو ، شاملینِ جلسہ کو بھی تو جہ دلانا چاہتا ہوں تا کہ جلسے کے ماحول کے تقدس کا انہیں بھی خیال رہے۔انہیں بھی پتہ ہو کہ یہاں شامل ہو کر اُن کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟ اور اسی طرح انتظامیہ سے تعاون کی طرف بھی اُن کی توجہ ر ہے۔دو ذمہ داریاں ہیں۔ایک یہ کہ جس مقصد کے لئے یہاں آئے ہیں اُس کو پورا کرنا۔روحانی علمی اور تربیتی لحاظ سے اپنے آپ کو بہتر کرنا۔دوسرے جو انتظامیہ ہے اُس سے تعاون کرنا۔ہم جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب ہوتے ہیں، ہمیں ہمیشہ اس بات کا خیال رہنا چاہئے کہ ہم نے صرف اپنے حقوق لینے کی ہی خواہش نہیں رکھنی بلکہ دوسرے کے حقوق بھی دینے ہیں اور اپنے ذمہ جو فرائض ہیں انہیں بھی ادا کرنا ہے۔اور مہمانوں کی جوذ مہ داریاں ہیں انہیں بھی ادا کرنا ہے۔سب سے بڑی ذمہ داری تو اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری ہے جو اس بات پر کرنی ہے کہ اُس نے ہمارے لئے ، جلسے میں شامل ہونے والوں کے لئے ، اس جگہ اور ان حالات میں جہاں عام حالات میں کوئی سہولت بھی نہیں ہوتی سہولت مہیا فرمائی ، اس کا انتظام فرمایا۔اور پھر اللہ تعالیٰ کے شکر کے بعد اُن تمام کارکنان کے شکر گزار ہوں اور اُن کے لئے دعائیں کریں جو دن رات کام کر کے آپ کو سہولت مہیا کرنے کے لئے محنت کرتے رہے اور اپنی انتھک محنت اور کوشش سے آپ لوگوں کے لئے آرام پہنچانے کے