خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 484 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 484

خطبات مسرور جلد 11 484 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 اگست 2013ء الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں ہی توجہ دلا دیتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں کہ: سب کو متوجہ ہو کر سننا چاہئے یعنی یہ جلسے کی کارروائی اور پورے غور اور فکر کے ساتھ سنو۔کیونکہ یہ معاملہ ایمان کا معاملہ ہے۔اس میں غفلت، سستی اور عدم توجہ بہت بڑے نتیجے پیدا کرتی ہے۔جو لوگ ایمان میں غفلت سے کام لیتے ہیں اور جب ان کو مخاطب کر کے کچھ بیان کیا جاوے تو غور سے اُس کو نہیں سنتے ہیں اُن کو بولنے والے کے بیان سے خواہ وہ کیسا ہی اعلیٰ درجہ کا مفید اور مؤثر کیوں نہ ہو کچھ بھی فائدہ نہیں ہوتا۔ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں جن کی بابت کہا جاتا ہے کہ وہ کان رکھتے ہیں مگر سنتے نہیں۔دل رکھتے ہیں پر سمجھتے نہیں۔پس یاد رکھو کہ جو کچھ بیان کیا جاوے اُسے توجہ اور بڑی غور سے سنو۔کیونکہ جو تو جہ سے نہیں سنتا ہے وہ خواہ عرصہ دراز تک فائدہ رساں وجود کی صحبت میں رہے اُسے کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔“ ( ملفوظات جلد دوم صفحه 104 مطبوعہ ربوہ ) پس جلسے پر آنے والوں کو صرف اس طرف متوجہ رہنے کی ضرورت ہے کہ ہم نے ان دنوں میں جلسے کے جو مقاصد ہیں اُن کو حاصل کرنا ہے۔جلسے کی کارروائی کو غور سے سننا ہے۔اپنی ذاتیات سے بالا تر ہو کر رہنا ہے اور اپنے ایمانوں کی ترقی کے لئے جلسے کے پروگرام سنتے ہیں۔انہیں اپنی زندگیوں کا حصہ بنانے کی کوشش کرنی ہے اور اپنے دلوں کو ہر قسم کی کدورتوں سے پاک کرنا ہے۔آپ علیہ السلام نے بڑا واضح طور پر فرمایا ہے کہ مسلمانوں میں تنزل اور گراوٹ اور کمزوریاں اس لئے پیدا ہوئی ہیں کہ جہاں دینی مجلسیں لگتی ہیں وہاں جاتے تو ہیں مگر اخلاص لے کر نہیں جاتے ، یعنی نہ تقریریں کرنے والوں میں اخلاص ہے، نہ سننے والوں میں۔لیکن ہمارے جلسے ان باتوں سے پاک ہیں اور ہونے چاہئیں۔ماشاء اللہ مقرین بڑے اخلاص سے تیاری کر کے آتے ہیں۔بڑی اچھی تقریریں ہوتی ہیں اور سنے والوں کی اکثریت بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے اخلاص سے پر ہے اور جلسے کی برکات کے حصول کے لئے آتی ہے۔لیکن بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا مقصد صرف اکٹھے ہونا اور باتیں کرنا اور مجلسیں لگانا ہوتا ہے۔اگر کوئی ایسا حصہ ہے جس میں کمی ہے تو انہیں اس طرف توجہ دینی چاہئے تا کہ ہمارا یہ ماحول سو فیصد خالصہ لِلہ آنے والوں کا ماحول بن جائے۔پھر جلسے کی کارروائی کے دوران ایک بات ضمناً میں یہ بھی کہہ دوں کہ بعض لوگوں کو تقریروں کے دوران نعرے لگانے کا بڑا شوق ہوتا ہے۔تقریروں کو غور سے سنیں۔بعض تقریریں ایسی سنجیدہ ہوتی ہیں، ایسا مضمون ہوتا ہے کہ اُس میں اُس وقت نعرے کی ضرورت نہیں ہوتی سوائے اس کے کہ کہیں دلی جوش سے کوئی نعرہ نکل رہا ہو۔لیکن یہاں بعض ایسے بھی لوگ ہیں جو ہر وقت ، ہر بات پر جوش میں آنے والے