خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 480 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 480

خطبات مسرور جلد 11 480 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 اگست 2013ء الحق صاحب پر بھی فائرنگ شروع کر دی اور فرار ہو گئے۔ظہور صاحب کی بیٹی نے جب فائرنگ کی آواز سنی تو اُس نے اوپر کھڑکی سے دیکھا کہ دو موٹر سائیکل اس طرح فائز کر کے دوڑے جا رہے ہیں۔وہ چائے پی رہی تھی۔کھڑکی پر کھڑی تھی۔اُس نے چائے کا کپ حملہ آوروں پر پھینکا تو اُس پر بھی انہوں نے فائرنگ شروع کر دی۔گھر کی کھڑکی پر بھی فائز آ کے لگے۔لیکن بہر حال بچی بچ گئی۔ظہور صاحب تو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی شہید ہو گئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ شہادت کے وقت مرحوم کی عمر 47 سال تھی اور ان کے جو غیر از جماعت پڑوسی نور الحق صاحب تھے، وہ بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔اللہ تعالیٰ اُن سے بھی رحمت اور مغفرت کا سلوک فرمائے۔ظہور صاحب شہید کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ آپ کے چا یوسف کیانی صاحب اور مکرم محمد سعید کیانی صاحب کے ذریعہ سے ہوا تھا۔آپ دونوں کو 1936ء میں بیعت کرنے کی توفیق ملی تھی۔دونوں ہی صاحب علم تھے اور با قاعدہ مطالعہ کرنے کے بعد بیعت کی توفیق پائی۔پھر اُس کے بعد مرحوم شہید کے والد اور دیگر تین چا بھی احمدیت میں شامل ہو گئے۔ان کا خاندان پریم کوٹ مظفر آباد کشمیر سے تعلق رکھتا تھا۔یہ 1966ء میں پیدا ہوئے تھے۔1976ء میں کراچی شفٹ ہو گئے۔وہیں انہوں نے بی اے تک تعلیم حاصل کی۔پھر فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں ملازمت اختیار کر لی۔شہادت کے وقت آپ محکمہ کسٹم کے اینٹی سمگلنگ یونٹ میں بطور کلرک خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ظہور صاحب اپنی مجلس سے انتہائی تعاون کرنے والے تھے۔انتہائی ملنسار، مالی قربانی میں صف اول کے مجاہدین میں شامل تھے۔اسی طرح مہمان نوازی آپ کا خاص وصف تھا۔کبھی گھر آئے ہوئے مہمان کو مہمان نوازی کے بغیر واپس نہیں جانے دیتے تھے۔ہر جماعتی عہدیدار کی عزت کرتے اور کسی بھی قسم کی شکایت کا موقع نہ دیتے۔شہید مرحوم موصی بھی تھے۔اسی طرح تبلیغ کا بھی شوق تھا۔ان کو 2009ء میں ایک شخص کی بیعت کروانے کی بھی توفیق ملی۔آپ کی شہادت کے بعد ہسپتال میں اور بعد میں جنازے کے موقع پر آپ کے دفتر سے کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور ہر ایک نے شہید مرحوم کے اعلیٰ اخلاق و عادات کی تعریف کی۔اُن کا ایک ساتھی جو ان کی شہادت کے بعد ان کے جسدِ خاکی کے ساتھ رہا اُس نے رو رو کر ذکر کیا کہ شہید مرحوم انتہائی پر شفقت اور صلح جو طبیعت کے مالک تھے۔کام کے حوالے سے کئی مواقع پر جب ہمیں غصہ آ جاتا تو وہ ہمیں صبر کی تلقین کرتے تھے۔اُن کے افسران نے بتایا کہ ظہور احمد کیانی ہمارا ایک بہادر اور جانباز سپاہی تھا جو بہت تھوڑے عرصے میں ہی ہر ایک کو اپنا گرویدہ کر لیتا تھا۔آج ہم ایک اچھے ساتھی سے محروم ہوئے ہیں۔