خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 481 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 481

خطبات مسرور جلد 11 481 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 اگست 2013ء آپ کے سر بشیر کیانی صاحب نے بتایا کہ شہید مرحوم خاندان میں ہر ایک کی مدد کیا کرتے تھے۔مالی لحاظ سے خدا تعالیٰ نے آپ کو وسعت دی تھی۔لہذا پورے خاندان میں جب بھی کوئی ضرورت ہوتی آپ اُس کی مدد کرتے۔خاندان کے علاوہ بھی ضرورتمند آپ کے دروازے سے خالی نہیں جاتا تھا۔بچوں کے ساتھ بھی آپ کا تعلق انتہائی شفقت کا تھا۔بچوں کی ضروریات کا مکمل خیال رکھتے۔ان کی تعلیم کی فکر رہتی۔اُن کی گہری نگرانی کرتے۔آپ کی اہلیہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کو جو اتنا اچھا دل دیا تھا تو شاید اس شہادت کے لئے ہی یہ اچھا دل دیا تھا۔بچوں کو کبھی نہیں ڈانٹتے تھے۔کہتی ہیں کہ شہادت سے پہلے مجھے کہا کہ میری جوتی صاف کر دو۔میں ابھی آتا ہوں۔پھر مسکرا کر نیچے اترے۔حملے کے بعد کہتی ہیں کہ بچوں کے ساتھ جب گھر سے باہر آئی اور انہیں دیکھا تو انہوں نے مجھے اور بچوں کو اُس زخمی حالت میں مسکرا کر دیکھا جیسے الوداع کہہ رہے ہوں اور پھر اپنی جان اپنے خالق حقیقی کے سپر د کر دی۔بچوں کو کبھی کچھ نہیں کہتے تھے لیکن یہاں سے ایم ٹی اے پر جو میرا خطبہ جا تا تھا، بچوں کو ہمیشہ کہتے تھے یہ سننا ہے۔اس پر بہر حال ناراضگی کا بھی اظہار کرتے تھے کہ خطبہ کیوں نہیں سنا۔ان کی بڑی پابندی تھی۔بیٹیوں کے ساتھ خاص شفقت اور محبت کا سلوک تھا۔آپ کے پسماندگان میں آپ کی اہلیہ طاہرہ ظہور کیانی صاحبہ ہیں۔اس کے علاوہ تین بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔عمران کیانی بیس سال کی عمر ہے۔کامران کیانی چودہ سال۔سرفراز تین سال۔اسی طرح بیٹیاں ہیں نور الصباح سولہ سال، نورالعین چودہ سال، عطیۃ المجیب سات سال، فائقہ ظہور پانچ سال۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور اُن کے بچوں کو اپنی حفاظت میں رکھے۔ان کی اہلیہ کو حفاظت میں رکھے۔ان کو صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل جلد 20 شماره 37 مورخہ 13 ستمبر تا 19 ستمبر 2013، صفحہ 5 تا صفحه 8)