خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 479 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 479

خطبات مسر در جلد 11 479 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 اگست 2013ء خوشی سے اور کچھ مجبوری سے۔یقینا ان بچوں کو بھی خدا تعالیٰ نے بہت نوازا ہو گا۔جیسا کہ اس آیت کے مضمون سے واضح ہے۔اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو مفلحون “ میں شامل فرمایا ہے۔اور فلاح پانے والے کون لوگ ہیں؟ اگر ہم اس کے معنی دیکھیں تو اس کی وسعت کا پتہ چلتا ہے۔مصبح وہ ہیں جو پھولنے پھلنے والے ہیں، جو کامیابی حاصل کرنے والے ہیں ، وہ جو انہی نیک اور اعلیٰ خواہشات کو حاصل کرنے والے ہیں اور اس وجہ سے خوشی حاصل کرنے والے اور ہر اچھائی کو پانے والے ہیں، مستقل طور پر ان اچھائیوں اور کامیابیوں کی حالت میں رہنے والے ہیں۔زندگی کے آرام وسکون کو پانے والے ہیں، حفاظت میں آنے والے ہیں۔پس ایک وقت کے کھانے کی قربانی اور مہمان نوازی نے انہیں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا وارث بنا کر کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔اور جس کو خدا تعالیٰ کی رضا کے ساتھ یہ سب کچھ مل جائے اُسے اور کیا چاہئے۔پس ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ یہ وہ مقام ہے جو مہمان نوازی کرنے والوں کو ملتا ہے۔یہ وہ مقام ہے جو ہمیں اپنے مہمانوں کی خدمت کر کے حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔یہ وہ معیار ہے جو ہمیں انشاء اللہ تعالیٰ ، اللہ تعالیٰ کا قرب دلا کر ہماری دنیا و آخرت سنوارنے کا موجب بنے گا۔پس ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کی خدمت کا موقع عطا فرما کر اللہ تعالیٰ ہمارے لئے مُفلِحین میں شامل ہونے کے راستے کھول رہا ہے۔اللہ کرے کہ تمام خدمتگار، تمام کارکنان اس فیض کو حاصل کرنے والے بنیں اور جلسے کے جو انتظامات ہورہے ہیں اللہ تعالیٰ اُن میں بھی آسانیاں پیدا فرمائے۔نماز جمعہ کے بعد میں ایک جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا جو ہمارے ایک شہید بھائی مکرم ظہور احمد صاحب کیانی کا ہے جن کو اورنگی ٹاؤن کراچی میں 21 راگست کو شہید کردیا گیا ہے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ان کا واقعہ یوں ہوا کہ ظہور صاحب 21 راگست کو اپنے کسی دوست کے ساتھ سوا گیارہ بجے گاڑی چیک کرنے کے لئے گئے۔جس کو آپ نے صحیح کروانے کے لئے دی تھی وہ گاڑی لے کر آیا۔گاڑی کچھ فاصلے پر کھڑی تھی۔جب آپ باہر آئے تو اسی اثناء میں آپ کے پڑوسی نور الحق صاحب جو غیر از جماعت ہیں وہ بھی باہر آگئے اور یہ تینوں گاڑی دیکھنے چلے گئے۔جیسا کہ میں نے کہا گاڑی گھر سے تھوڑے فاصلے پر کھڑی تھی۔یہ تینوں جب کار چیک کر کے واپس آ رہے تھے تو ایک موٹر سائیکل پر دو حملہ آور آئے جن میں سے ایک نے موٹر سائیکل سے اتر کر ظہور صاحب پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی جس سے ظہور صاحب کے پڑوسی انوار الحق صاحب نے حملہ آور کے ہاتھ پر جھپٹا مارا جس سے حملہ آور کے دوسرے ساتھی نے نور