خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 42
خطبات مسرور جلد 11 42 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 جنوری 2013ء مہارت کا سوال ہے، جامعہ احمدیہ میں کیونکہ مختلف مضامین پڑھائے جاتے ہیں، صرف ایک زبان کی طرف ہی تو توجہ نہیں دی جاتی۔باقی یونیورسٹیوں میں یا دوسرے مدرسوں میں اگر پڑھایا جاتا ہے تو ایک مضمون پڑھا کر اُس پر توجہ دی جاتی ہے۔لیکن یہاں تو مختلف مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔ہاں جب یہ دیکھا جائے کہ کسی کا کسی زبان کی طرف رجحان ہے یا زبانوں کے سیکھنے کی طرف رجحان ہے تو اُن کو زبانوں میں پھر سپیشلائز بھی انشاء اللہ کر وایا جائے گا اور پھر بولنے کا جو شکوہ ہے وہ بھی دُور ہو جائے گا۔لیکن بہر حال جہاں تک پڑھائی کا سوال ہے، جو علم دیا جا رہا ہے، وہ بہت وسیع علم ہے جو جامعہ کے طلباء اللہ تعالیٰ کے فضل سے حاصل کر رہے ہیں۔پاکستان میں تو کیونکہ پرانے جامعات ہو گئے ہیں، وہاں تخصص بھی کروایا جاتا ہے، سپیشلائز بھی کروایا جاتا ہے۔تو یہ تو بعض لوگوں کے، خاص طور پر جرمنی سے مجھے اطلاع ملی تھی ، جامعہ میں بچوں کو نہ بھیجنے کے بہانے ہیں۔جیسا کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ کے فضل سے یو کے اور کینیڈا کے جوطلباء جامعہ سے فارغ ہوئے ہیں ان کا تبلیغی میدان میں اب تک جو تھوڑا تجربہ ہوا ہے وہ اللہ کے فضل سے بڑے مؤثر رہے ہیں۔اور یہ علم تو جیسا کہ میں نے کہا ساتھ ساتھ انشاء اللہ تعالیٰ بڑھتا چلا جائے گا۔پس جو لوگ یہ باتیں کرتے ہیں اور بعض طلباء کو جامعہ آنے یا دا خلہ لینے سے بددل کرتے ہیں، یہ لوگ صرف فتنہ ہیں یا اُن میں نفاق کا رنگ ہے۔اس لئے اُن کو بھی استغفار کرنی چاہئے۔جو شعبہ وقف کو ہے، انہوں نے بعض انتظامی باتوں کی طرف بھی توجہ دلائی ہے جو میں دہرا دیتا ہوں۔شاید پہلے بھی بعض کا ذکر ہو چکا ہو۔وقف کو میں ماں باپ بچوں کی بلوغت کو پہنچ کر یا پہلے ہی اس طرح تربیت نہیں کرتے ، جیسا کہ میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ بچوں نے اپنے آپ کو باقاعدہ جماعت کی خدمت میں پیش کرنا ہے۔ایسی تربیت سے بچوں کو یہ پتہ ہونا چاہئے۔تعلیم کے ہر مرحلے پر اُن کو توجہ دلائیں۔اور پھر وقف نو کا جو شعبہ ہے اُس سے رہنمائی بھی حاصل کریں۔اپنی تعلیم کے بارے میں بچوں کو پوچھنا چاہئے کہ اب ہم اس سٹیج پر پہنچ گئے ہیں کیا کریں؟ اور اگر اُس نے اپنی مرضی کرنی ہے یا ایسے شعبوں میں جانا ہے جس کی فی الحال جماعت کو ضرورت نہیں ہے تو پھر وقف سے فراغت لے لیں۔لڑکیاں جو واقفات کو ہیں ، جو پاکستانی اور یجن (Origin) کی ہیں، پاکستان سے آئی ہوئی ہیں، جن کو اردو بولنی آتی ہے، وہ اردو پڑھنی بھی سیکھیں۔اور جو یہاں باہر کے ملکوں میں رہ رہی ہیں وہ مقامی زبان بھی سیکھیں۔جہاں انگلش ہے، جرمن ہے یا ایسے علاقوں میں ہیں جہاں انگلش سرکاری زبان ہے اور مقامی لوکل زبانیں اور ہیں وہ بھی سیکھیں، عربی سیکھیں ، پھر اپنے آپ کو تراجم کے لئے پیش کریں۔میں نے