خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 41
خطبات مسرور جلد 11 41 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 جنوری 2013ء جائے تو اگلے دو سال میں جامعات میں داخل ہونے والوں کی تعداد خاصی بڑھائی جاسکتی ہے۔صرف مربی مبلغ کے لئے نہیں بلکہ جامعہ میں پڑھ کے، دینی علم حاصل کر کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کے مختلف زبانوں میں تراجم کے لئے بھی تیار کئے جا سکتے ہیں۔ان کو جامعہ میں پڑھانے کے بعد مختلف زبانوں میں پیٹائر بھی کرایا جا سکتا ہے۔پھر جو جامعہ میں نہیں آرہے، وہ بھی زبانیں سکھنے کی طرف توجہ کریں اور زبانیں سیکھنے والے کم از کم جیسا کہ حضرت خلیفہ اسیح الرابع نے بھی فرمایا تھا اور یہ ضروری ہے کہ تین زبانیں اُن کو آنی چاہئیں۔ایک تو اُن کی اپنی زبان ہو، دوسرے اردو ہو، تیسرے عربی ہو۔عربی تو سیکھنی ہی ہے، قرآن کریم کی تفسیروں اور بہت سارے میسر لٹریچر کو سمجھنے کے لئے۔اور پھر قرآن کریم کا ترجمہ کرتے ہوئے جب تک عربی نہ آتی ہو صحیح ترجمہ بھی نہیں ہوسکتا۔اور اردو پڑھنا سیکھنا اس لئے ضروری ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی کتب سے ہی اس وقت دین کا صحیح فہم حاصل ہوسکتا ہے۔کیونکہ آپ کی تفسیریں، آپ کی کتب، آپ کی تحریرات ہی ایک سرمایہ ہیں اور ایک خزانہ ہیں جو دنیا میں ایک انقلاب پیدا کر سکتی ہیں، جو صیح اسلامی تعلیم دنیا کو بتاسکتی ہیں، جو حقیقی قرآن کریم کی تفسیر دنیا کو بتاسکتی ہیں۔پس اردو زبان سیکھے بغیر بھی صحیح طرح زبانوں میں مہارت حاصل نہیں ہوسکتی۔ایک وقت تھا کہ جماعت میں ترجمے کے لئے بہت دقت تھی ، دقت تو اب بھی ہے لیکن یہ دقت اب کچھ حد تک مختلف ممالک کے جامعات کے جولڑ کے ہیں اُن سے کم ہو رہی ہے یا اس طرف توجہ پیدا ہو رہی ہے۔جامعہ احمدیہ کے مقالوں میں اردو سے ترجمے بھی کروائے جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب، حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی بعض کتب کے ترجمے کئے ہیں اور جو بھی طلباء کے سپر وائزر تھے، اُن کے مطابق اچھے ہوئے ہیں۔لیکن بہر حال اگر معیار بہت اعلیٰ نہیں بھی تو مزید پالش کیا جا سکتا ہے۔بہر حال ایک کوشش شروع ہو چکی ہے۔لیکن یہ تو چند ایک طلباء ہیں جن کو دو چار کتا بیں دے دی جاتی ہیں، ہمیں زیادہ سے زیادہ زبانوں کے ماہرین چاہئیں۔اس طرف واقفین ٹو کو بہت توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔اگر جامعہ کے طلباء کے علاوہ کوئی کسی زبان میں مہارت حاصل کرتا ہے تو اُسے جیسا کہ میں نے کہا عربی اور اردو سکھنے کی طرف بھی توجہ کرنی چاہئے۔اس کے بغیر وہ مقصد پورا نہیں ہو سکتا جس کے لئے زبان کی طرف توجہ ہے۔جامعہ احمدیہ پر یہاں یا جرمنی میں یا بعض جگہ بعض لوگ اعتراض کر دیتے ہیں کہ یہاں پڑھائی اچھی نہیں ہے۔یہ بالکل بودے اعتراض ہیں۔اُن کے خیال میں اُن کا جو اعتراض ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ جامعہ سے فارغ ہوتا ہے تو اُس کو عربی بولنی نہیں آتی یا بول چال اتنی اچھی نہیں ہے۔جہاں تک زبان کی