خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 436
خطبات مسرور جلد 11 436 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 اگست 2013ء فرمایا: ”اب دیکھو خدا تعالیٰ نے دیانت اور امانت کے کس قدر پہلو بتلائے۔سو حقیقی دیانت اور امانت وہی ہے جو ان تمام پہلوؤں کے لحاظ سے ہو اور اگر پوری عقل مندی کو دخل دے کر امانتداری میں تمام پہلوؤں کا لحاظ نہ ہو تو ایسی دیانت اور امانت کئی طور سے چھپی ہوئی خیانتیں اپنے ہمراہ رکھے گی۔“ اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 347) اگر امانتداری میں تمام پہلوؤں کا لحاظ نہیں رکھا گیا تو پھر اس میں چھپی ہوئی خیانت بھی آ جائے گی۔پس بہت محتاط ہو کر یہ حق ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ جب تقویٰ کے بارے میں بار بار تلقین فرماتا ہے تو اس لئے کہ اپنے جائزے لو اور دیکھو کہ کمزوروں کے حق ادا ہور ہے ہیں یا نہیں ہورہے۔امانت اور دیانت کے معیاروں کو پر کھتے رہو۔یہ نہ ہو کہ ان کے نیچے چھپی ہوئی خیانتیں ہوں جو آگ کے گولے پیٹ میں بھرنے کا باعث بن جائیں۔پھر خدا تعالیٰ یہ حکم فرماتا ہے کہ وَآوُفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ (الانعام : 153 ) اور انصاف کے ساتھ ماپ اور تول پورے پورے دو۔یہاں اب عمومی طور پر اپنے کاروباروں کو انصاف اور ایمانداری کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ادا کرنے کا حکم ہے۔پہلے یتیموں اور کمزوروں کا حق قائم کیا اور ایمانداری سے اُن کا حق ادا کرنے کا حکم دیا تو اب آپس کے کاروباروں کو صفائی اور ایمانداری سے بجا لانے کا حکم ہے۔کسی قسم کا دھو کہ نہیں ہونا چاہئے۔اگر دوسرا فریق لا علم ہے تب بھی دھوکہ نہ ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم کوئی جنس بیچ رہے ہو تو اگر جنس میں کسی قسم کی کمی ہے تو اُس کو سامنے رکھو تا کہ خریدارکو پتہ ہو کہ جو مال میں خرید رہا ہوں، اُس میں یہ قص ہے۔سنن ابن ماجه کتاب التجارات باب من باع عيبا فليبينه حدیث (2246 ایک دوسری جگہ کاروباری لین دین اور ماپ تول کے صحیح کرنے کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ذلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلاً ( بنی اسرائیل : 36) یہ بات سب سے بہتر اور انجام کے لحاظ سے اچھی ہے۔یعنی اچھے تاجر صیح ماپ تول کرنے والے تاجر کی شہرت بھی اچھی ہوتی ہے اور اُس کے پاس پھر زیادہ گا ہک بھی آتے ہیں۔نتیجہ اس کا کاروبار بڑی تیزی سے ترقی کرتا ہے۔اگر دھوکہ ہوتو کاروبار ختم ہوجا تا ہے۔ایک دوسری جگہ یہ بھی خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ جو دھوکہ دہی ہے یہ فساد کا باعث بنتی ہے لیکن مشکل یہ ہے بلکہ افسوس یہ ہے کہنا چاہئے کہ جتنازیادہ قرآنِ کریم نے احکام کھول کھول کر بیان فرمائے ہیں اتنے ہی مسلمان اُس ایمانداری کے معیار سے نیچے گرتے چلے جارہے ہیں۔کہاں تو مسلمانوں کے ایمان کا