خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 435
خطبات مسرور جلد 11 435 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 اگست 2013ء کمزوروں اور یتیموں کے حق اور پرورش کے بارے میں جو اللہ تعالیٰ کے احکامات ہیں ، اُن کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: اگر کوئی ایسا تم میں مالدار ہو جو صحیح العقل نہ ہو مثلاً یتیم یا نا بالغ ہواور اندیشہ ہو کہ وہ اپنی حماقت سے اپنے مال کو ضائع کر دے گا تو تم (بطور کورٹ آف وارڈس کے ) وہ تمام مال اُس کا متکفل کے طور پر اپنے قبضہ میں لے لو اور وہ تمام مال جس پر سلسلہ تجارت اور معیشت کا چلتا ہے ان بیوقوفوں کے حوالہ مت کرو اور اس مال میں سے بقدر ضرورت اُن کے کھانے اور پہننے کے لئے دے دیا کرو اور اُن کو اچھی باتیں قول معروف کی کہتے رہو۔یعنی ایسی باتیں جن سے اُن کی عقل اور تمیز بڑھے اور ایک طور سے اُن کے مناسب حال اُن کی تربیت ہو جائے اور جاہل اور ناتجربہ کار نہ رہیں۔اگر وہ تاجر کے بیٹے ہیں تو تجارت کے طریقے اُن کو سکھلاؤ اور اگر کوئی اور پیشہ رکھتے ہوں تو اس پیشہ کے مناسب حال اُن کو پختہ کر دو۔غرض ساتھ ساتھ اُن کو تعلیم دیتے جاؤ اور اپنی تعلیم کا وقتاً فوقتاً امتحان بھی کرتے جاؤ کہ جو کچھ تم نے سکھلایا انہوں نے سمجھا بھی ہے یا نہیں۔پھر جب نکاح کے لائق ہو جائیں یعنی عمر قریباً اٹھارہ برس تک پہنچ جائے اور تم دیکھو کہ اُن میں اپنے مال کے انتظام کی عقل پیدا ہو گئی ہے تو اُن کا مال اُن کے حوالہ کرو اور فضول خرچی کے طور پر اُن کا مال خرچ نہ کرو اور نہ اس خوف سے جلدی کر کے کہ اگر یہ بڑے ہو جائیں گے تو اپنا مال لے لیں گے، ان کے مال کا نقصان کرو۔جو شخص دولتمند ہو اُس کو نہیں چاہئے کہ اُن کے مال میں سے کچھ حق الخزمت لیوے لیکن ایک محتاج بطور معروف لے سکتا ہے۔“ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 346) فرمایا کہ: ”عرب میں مالی محافظوں کے لئے یہ طریق معروف تھا کہ اگر یتیموں کے کار پردازان کے مال میں سے لینا چاہتے تو حتی الوسع یہ قاعدہ جاری رکھتے کہ جو کچھ یتیم کے مال کو تجارت سے فائدہ ہوتا اُس میں سے آپ بھی لیتے۔رأس المال کو تباہ نہ کرتے۔سو اسی عادت کی طرف اشارہ ہے کہ تم بھی ایسا کرو۔اور پھر فرمایا کہ جب تم یتیموں کو مال واپس کرنے لگو تو گواہوں کے رو برو اُن کو اُن کا مال دو اور جو شخص فوت ہونے لگے اور بچے اُس کے ضعیف اور صغير السن ہوں تو اُس کو نہیں چاہئے کہ کوئی ایسی وصیت کرے کہ جس میں بچوں کی حق تلفی ہو۔جو لوگ ایسے طور سے یتیم کا مال کھاتے ہیں جس سے یتیم پر ظلم ہو جائے تو وہ مال نہیں بلکہ آگ کھاتے ہیں اور آخر جلانے والی آگ میں ڈالے جائیں گے۔“۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 346 347)