خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 434 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 434

خطبات مسرور جلد 11 434 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 02 اگست 2013ء قرآن کریم کے احکامات ایسے نہیں کہ صرف ایک فریق کا حق دلائیں تو دوسرے کا حق غصب کر لیں۔اگر یہ حکم ہے کہ تیموں کا مال ناجائز طریقے سے کھا کے اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہو تو ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے امانت اور دیانت کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اگر یتیم کے مال میں سے کچھ خرچ کر رہے ہو تو پھر یہ ظلم نہیں ہے۔فرمایا کہ یتیم کی پرورش پر جو خرچ ہوتا ہے، اُس کی تعلیم پر، اُس کی تربیت پر جو خرچ ہوتا ہے، یہ خرچ کرنے کی تو اجازت ہے لیکن دیکھو ظلم نہ کرنا۔امانت میں خیانت کرنے والے نہ بننا۔فرمایا لَا تَأْكُلُوهَا إِسْرَانًا وَبِدَارًا أَنْ يَكْبَرُوا (النساء: 7) اُن کے جوان ہونے کے خوف سے اُن کے مال ناجائز طور پر اور جلدی جلدی نہ کھا جاؤ۔فرمایا وَمَن كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِف (النساء: 7) اور جو کوئی صاحب حیثیت اور مالدار ہو، وہ اس مال سے بکلی اجتناب کرے۔لیکن اگر کوئی مجبور ہے، تعلیم اور جو دوسرے اخراجات اُس پر ہورہے ہیں، وہ برداشت نہیں کر سکتا تو اُس کے بارے میں فرمایا کہ فَلْيَأْكُلُ بِالْمَعْرُوفِ (النساء : 7 ) پس وہ مناسب طور پر اس مال میں سے لے سکتا ہے۔اور مناسب کیا ہے؟ اُس یتیم پر جو اصل خرچ ہورہا ہے وہ یا اگر کسی کی بالکل ہی فقیری کی حالت ہے اور گزارہ بھی نہیں ہوتا اور پرورش کی وجہ سے اُس کی ذمہ داری چوبیس گھنٹے اُس کی نگہداشت پر ہے تو معمولی حق الخدمت کیا جا سکتا ہے۔پس اس مال کے خرچ کی اس حد تک اجازت ہے۔لیکن جو اُس مال کی حفاظت اور اُسے بڑھانے کا حکم ہے اُسے ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے اور نیچے امین اور سچے نگر ان کا حق ادا کرنا چاہئے۔فرمایا حَتَّى يَبْلُغَ أَشُدَّهُ (الانعام : 153 ) یہاں تک کہ وہ اپنی بلوغت اور مضبوطی کی عمر کو پہنچ جائیں اور اپنے مال اور جائیداد کا انتظام وانصرام سنبھال سکنے والے ہوں۔پس یہ حق ہے جو یتیم کا قائم ہے۔ایک کمزور طبقے کا قائم ہے کہ اُس کے عاقل بالغ ہونے تک اُس کی جائیداد کی ، اُس کے مال کی حفاظت کی جائے اور پھر جب وہ اُسے سنبھالنے کے قابل ہو جائے تو اُسے اُس کا مال کو ٹا دیا جائے۔یہاں یہ بھی واضح ہونا چاہئے کہ بعض دفعہ کوئی یتیم بالغ ہونے کے بعد عقل کے لحاظ سے اس سطح پر نہیں ہوتا کہ وہ اپنے مال کی حفاظت کر سکے۔تو پھر اُس وقت تک، جب تک وہ اس قابل نہ ہو جائے ، یا اگر بالکل ہی غبی ہے تو پھر مستقل طور پر اُس کے مال کی حفاظت فرض بنتا ہے۔ایسے لوگ بھی ہیں جو باوجود غبی ہونے کے شادی کے قابل ہوتے ہیں۔اگر اُن کی شادی ہو جاتی ہے اور اولا د بھی ہوتی ہے تو پھر اولاد کے جوان ہونے تک عزیزوں کا یا معاشرے کا اور جماعت کا یہ کام ہے کہ اس ذمہ داری کو نبھا ئیں اور ان کے مال کی حفاظت کریں۔