خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 433 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 433

خطبات مسرور جلد 11 433 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 اگست 2013ء ہے تو ظاہر ہے اُن کو جب احساس دلایا جائے تو تسلیم بھی کرتے ہیں۔پس یہ اصل غرض ہے یا سزا کا اصل مقصد ہے کہ اصلاح کی جائے اور اس ناحق قتل کو روکا جائے جو آپس کے جھگڑوں اور فسادوں کی وجہ سے معاشرے میں پیدا ہوتا ہے۔اس کے بعد میں اب اگلے حکم پر آتا ہوں جو اُس سے اگلی آیت میں بیان ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (الانعام : 153 ) اور یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ سوائے اس طریق کے جو اچھا ہے۔اب یہاں خدا تعالیٰ معاشرے کے کمزور ترین طبقہ کے حق کی حفاظت کی طرف توجہ دلا رہا ہے۔اگر صرف یہی ہو کہ تم نے یتیم کے مال کے قریب بھی نہیں جانا تو یتیم کے سرمائے یا جائیداد کے ضائع ہو جانے کا بھی خطرہ ہوسکتا ہے۔اس لئے فرمایا کہ یتیم کے مال تک تمہاری پہنچ احسن طریق پر ہو۔اس طرز پر یتیم کے مال کو دیکھو کہ حتی الوسع کسی نقصان کا احتمال نہ ہو۔یتیم کی جائیداد کو جاڑنے اور ختم کرنے کی نیت سے نہیں بلکہ یتیم کو فائدہ پہنچانے کی غرض سے اُس کی جائیدا داور مال کا استعمال کرو۔پس یہ لازمی حکم ہے کہ یتیم کے مال کی حفاظت کا انتظام تم نے کرنا ہے۔ایک امین کی حیثیت سے قریبی عزیزوں نے ، یا جس کے سپر دبھی یتیم کی ذمہ داری کی جائے ، اُس نے یتیم کے مال کی حفاظت کرنی ہے، اُس کا خیال رکھنا ہے۔جماعت نے اُس کے مال کی حفاظت کرنی ہے اور خیال رکھنا ہے۔معاشرے نے اور ملک کے قانون نے اُس کے مال کی حفاظت کرنی ہے اور خیال رکھنا ہے۔کس طرح حفاظت کرنی ہے؟ اُس کے لئے بہت ساری صورتیں ہیں۔یتیموں کے مالوں کو اس طرح استعمال کرو یا کاروباروں میں لگاؤ کہ وہ مال بڑھیں تا کہ یتیموں کو ، اُس گروہ کو جو ابھی اتنی عقل نہیں رکھتا، اُن بچوں کو جن کے ماں باپ کا سایہ اُن کے سر پر نہیں ہے فائدہ ہو۔جن کی جائیداد میں ضائع ہونے کا خطرہ ہے، اُن کو احسن طریق پر اس طرح استعمال کرو، اس طرح انویسٹ (Invest) کرو، اس طرح کا روباروں میں لگاؤ کہ وہ مال بڑھے۔پس ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے جو یتیم کے مال کی حفاظت کا حکم دے کر عزیزوں اور معاشرے پر ڈالی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ دوسری جگہ فرماتا ہے کہ اگر تم یہ ذمہ داری ادا نہیں کرتے اور بہانے بہانے سے یتیم کے مال کو کھانے کی کوشش کرتے ہو، تو اس کی بڑی سخت سزا ہے۔فرما لِلاِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتى ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ في بُطُونِهِمْ نَارًا (النساء : 11) اور جولوگ ظلم سے یتیموں کے مال کھاتے ہیں، وہ یقینا اپنے پیٹوں میں آگ بھرتے ہیں۔اور پھر فرمایا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا ( النساء:11 ) اور وہ یقیناً شعلہ زن آگ میں داخل ہوں گے۔