خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 430
خطبات مسرور جلد 11 430 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 02 اگست 2013ء تم اپنے جذبات کی رو میں زیادہ بہہ جاؤ گے تمہاری عقل اور سوچ ختم ہو جائے گی اور انجام کار اللہ تعالیٰ کے حکم کو تو ڑ کر اُس کی ناراضگی کا موجب بن جاؤ گے۔پھر آجکل کے زمانے میں ایک ایسی بے حیائی کو ہوا دی جارہی ہے جو فطرت کے نہ صرف خلاف ہے بلکہ جس کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے ایک قوم کو تباہ کر دیا تھا۔حکومتیں اب ایک ہی جنس کی شادی کے قانون بنا رہی ہیں۔یعنی فحشاء کو ہوا دینے اور پھیلانے کی حکومتی سطح پر کوشش کی جارہی ہے اور قانون بنائے جارہے ہیں۔یہاں تک کہ حکومتوں کے سر براہ وزیر اعظم یہ کہتے ہیں کہ ہم چاہیں گے کہ اب تمام دنیا میں ہم جنسوں کی شادی کا قانون بنے اور ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ہم اس بارے میں دنیا میں کوشش کریں گے۔ایک وزیر اعظم کی طرف سے اس طرح کا بیان آیا تھا۔اگر یہ سچ ہے تو پھر خدا تعالیٰ کی پکڑ کو آواز دے رہے ہیں۔پھر ایک ملک کے بڑے پادری ہیں جو غالباً ساؤتھ افریقہ کے ہیں۔حالانکہ افریقن اب تک یہی کہتے رہے ہیں کہ اس قسم کی غیر فطری شادیاں جو ہیں وہ نہیں ہونی چاہئیں اور یہ قانون نہیں بننے چاہئیں۔اور پھر یہ پادری صاحب جو بائبل پڑھنے والے، اُس کا پر چار کرنے والے، اُس کی تعلیم دینے والے ہیں،جس میں خود یہ لکھا ہوا ہے کہ اس کی وجہ سے قوم تباہ ہوئی۔وہ فرماتے ہیں کہ اگر ایسے شادی کرنے والے جوڑے جنت میں نہیں جائیں گے تو پھر میں جہنم میں جانا پسند کروں گا۔تو یہ ان کا حال ہو چکا ہے۔یہ آجکل کی دنیا میں فحاشی کی انتہا ہو چکی ہے۔پس یا درکھیں کہ یہ جو فحاشی ہے، اگر اسی طرح سرِ عام پھیلتی رہی اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی طرف دنیا نے رُخ نہ کیا، اس کی طرف توجہ نہ کی تو پھر یہ قو میں بھی اپنے انجام کو دیکھ لیں گی۔یہ اس دنیا کو بھی یقینا جہنم بنائے گی اور آخرت میں اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ اُس نے کیا سلوک کرنا ہے۔بلکہ اب جو میڈیکل ریسرچ ہے اُس میں واضح طور پر یہ کہا جانے لگا ہے کہ ایڈز کا مرض ایسے لوگوں میں بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے جو مردوں مردوں اور عورتوں عورتوں کی شادیوں کے بھیانک جرم میں مبتلا ہیں۔اللہ تعالیٰ کے سزا دینے کے طریقے مختلف ہیں۔ضروری نہیں کہ اگر ایک قوم کو پتھروں کی بارش برسا کر سزا دی تھی تو ہر قوم کو اسی طرح سزا دی جائے۔HIV یا ایڈز کی یہ بیماری ایسی ہے جو در دناک اور خوفناک انجام تک لے جاتی ہے۔پس جس تیزی سے دنیا میں فحاشی پھیلائی جارہی ہے، ایک احمدی کا کام ہے کہ اُس سے بڑھ کر اپنے خدا سے تعلق پیدا کر کے اپنے آپ کو اور دنیا کو اس تباہی کے خوفناک انجام سے بچانے کی کوشش کرے۔یہ دنیا دار تو اپنے آپ کو تباہ کرنے پر تلے بیٹھے ہیں۔دنیا دار اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے