خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 429 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 429

خطبات مسرور جلد 11 429 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 اگست 2013ء کے اخلاق پر بھی برا اثر پڑ رہا ہے۔ان کو تو آج یہ خیال آیا ہے لیکن قرآنِ کریم نے چودہ سو سال پہلے ؟ دیا کہ یہ سب بے حیائیاں ہیں، ان کے قریب بھی نہ پھٹکو۔یہ تمہیں بے حیا بنادیں گی۔تمہیں خدا سے دور کر دیں گی، دین سے دور کر دیں گی بلکہ قانون توڑنے والا بھی بنا دیں گی۔اسلام صرف ظاہری بے حیائیوں سے نہیں روکتا بلکہ چھپی ہوئی بے حیائیوں سے بھی روکتا ہے۔اور پردے کا جو حکم ہے وہ بھی اسی لئے ہے کہ پر دے اور حیا دار لباس کی وجہ سے ایک کھلے عام تعلق اور بے تکلفی میں جولڑ کے اور لڑکی میں پیدا ہو جاتی ہے، ایک روک پیدا ہوگی۔اسلام بائبل کی طرح یہ نہیں کہتا کہ تم عورت کو بری نظر سے نہ دیکھو بلکہ کہتا ہے کہ نظریں پڑیں گی تو قربت بھی ہوگی اور پھر بے حیائی بھی پیدا ہوگی۔اچھے برے کی تمیز ختم ہو گی اور پھر ایسے کھلے عام میل جول سے جب اس طرح لڑکا اور لڑکی ، مرد اور عورت بیٹھے ہوں گے تو اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق تیسر ا تم میں شیطان ہوگا۔(سنن الترمذی کتاب الرضاع باب ما جاء في كراهية الدخول على المغيبات حدیث نمبر 1171) یہ جو انٹرنیٹ وغیرہ کی میں نے مثال دی ہے، اس میں فیس بک(Facebook) اور سکائپ (Skype) وغیرہ سے جو چیٹ (Chat) وغیرہ کرتے ہیں، یہ شامل ہے۔کئی گھر اس سے میں نے ٹوٹتے دیکھے ہیں۔بڑے افسوس سے میں کہوں گا کہ ہمارے احمدیوں میں بھی اس طرح کے واقعات ہوتے ہیں۔پس خدا تعالیٰ کے اس حکم کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے کہ فحشاء کے قریب بھی نہیں پھٹکنا کیونکہ حکم شیطان پھر تمہیں اپنے قبضے میں کر لے گا۔پس یہ قرآن کریم کے حکم کی خوبصورتی ہے کہ یہ نہیں کہ نظر اُٹھا کے نہیں دیکھنا، اور نہ نظریں ملانی ہیں بلکہ نظروں کو ہمیشہ نیچے رکھنا ہے اور یہ حکم مرد اور عورت دونوں کو ہے کہ اپنی نظریں نیچی رکھو۔اور پھر جب نظریں نیچی ہوں گی تو پھر ظاہر ہے یہ نتیجہ بھی نکلے گا کہ جو آزادانہ میل جول ہے اُس میں بھی روک پیدا ہو گی۔پھر یہ بھی ہے کہ فحشاء کو نہیں دیکھنا، تو جو بیہودہ اور لغو اور نخش فلمیں ہیں، جو وہ دیکھتے ہیں اُن سے بھی روک پیدا ہوگی۔پھر یہ بھی ہے کہ ایسے لوگوں میں نہیں اُٹھنا بیٹھنا جو آزادی کے نام پر اس قسم کی باتوں میں دلچپسی رکھتے ہیں اور اپنے قصے اور کہانیاں سناتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس طرف راغب کر رہے ہوتے ہیں۔نہ ہی سکائپ (Skype) اور فیس بک (Facebook) وغیرہ پر مرد اور عورت نے ایک دوسرے سے بات چیت کرنی ہے، ایک دوسرے کی شکلیں دیکھنی ہیں ، نہ ہی ان چیزوں کو ایک دوسرے سے تعلقات کا ذریعہ بنانا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے سب ظاہر یا چھپی ہوئی فحشاء ہیں جن کا نتیجہ یہ ہوگا کہ