خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 431
خطبات مسرور جلد 11 431 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 اگست 2013ء لئے ایک ایسے طبقہ کو خوش کرنے کے لئے جو خدا تعالیٰ کے قانون کو توڑ رہا ہے، پوری دنیا کو فحشاء میں مبتلا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کا انجام پھر تباہی ہے۔ان لوگوں کی ہمدردی کے لئے ہمیں انہیں بتانے کی ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت رحم کرنے والا اور گناہ معاف کرنے والا بھی ہے، اُس نے مغفرت کا راستہ کھلا رکھا ہے۔وہ فرماتا ہے کہ وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُ واللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَنْ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللهُ ( آل عمران : 136 ) کہ اور وہ لوگ جو کسی بے حیائی کے مرتب ہوں یا اپنی جانوں پر ظلم کریں، پھر اللہ کو یاد کریں اور اپنے گناہوں کی معافی چاہیں۔اور اللہ کے سوا کوئی بخش نہیں سکتا۔فحشاء پر اگر اصرار نہ ہو اور اللہ تعالیٰ کا خوف ہو تو خدا تعالی بخش دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بخشنے والا نہیں ہے۔پس ہر قسم کے فحشاء جن کا میں نے شروع میں ذکر کیا تھا اس سے خود بھی بچنے اور بیچنے کے راستے دکھانے کی ہر احمدی کو کوشش کرنی چاہئے اور اُس کی ذمہ داری ہے۔اللہ تعالی زیادتی نہ کرنے والوں کو معاف کر دیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : اور وہ لوگ کہ جب کوئی بے حیائی کا کام کریں یا اپنی جانوں پر ظلم کریں اور پھر اپنے ایسے حال میں اللہ تعالیٰ کو یاد کریں اور اس سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگیں اور اپنے گناہ پر اصرار نہ کریں اُن کا خدا آمرزگار ہوگا۔یعنی وہ بخشنے والا خدا ہے۔اور گناہ بخش دے گا۔“ " چشمه معرفت ، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 25-26) اللہ کرے ہر وہ شخص جو فحشاء میں مبتلا ہے، اُسے عقل آجائے اور خدا تعالیٰ کی پکڑ سے بچ جائے۔اس بات کی وضاحت کی میں بہت ضرورت محسوس کر رہا تھا اس لئے میں نے اس کی کچھ وضاحت کی ہے کیونکہ یہ سوال آجکل بہت عام ہو چکا ہے۔پھر اگلا حکم خدا تعالیٰ نے ان آیات میں یہ دیا ہے کہ وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهِ (الانعام : 152) اور کسی جان کو جسے اللہ تعالیٰ نے حرمت بخشی ہے قتل نہ کرو۔یہ حکم اس طرف توجہ دلاتا ہے کہ معاشرے کے حقوق ادا کرو۔اپنے بھائیوں ، اپنے دوستوں، اپنے سے واسطہ پڑنے والوں کے حقوق عدل وانصاف سے ادا کر و قتل صرف جان کا قتل نہیں ہے بلکہ تعلقات کو توڑنا، نا انصافی سے دوسروں کے حقوق پامال کرنا، یہ بھی قتل ہے۔دوسروں کو جذباتی طور پر مجروح کرنا، یہ بھی قتل ہے۔کسی کو اتنا زیادہ