خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 394
خطبات مسرور جلد 11 394 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 جولائی 2013ء جس کا مقصد تقویٰ میں ترقی اور خدا تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے وہ بھی ختم ہو گیا۔اگر ہم بار یکی کی نظر سے دیکھیں تو یہ بھی ایک قسم کا شرک ہے کہ بظاہر دنیاوی اخلاق کے نام پر میزبان کی خاطر خدا تعالیٰ کے حکم کو توڑ دیا جائے ، ٹال دیا جائے۔خدا تعالیٰ کے مقابلے پر جس کو بھی اہمیت دیں اُس سے آہستہ آہستہ خدا تعالیٰ کی ذات پیچھے چلی جاتی ہے اور شرک غالب آ جاتا ہے۔پس فرمایا کہ روزے تم سے پہلے جو لوگ گزرے ہیں اُن پر بھی فرض تھے، تمہارے لئے خاص نہیں ہیں۔لیکن دینی لحاظ سے پہلی قوموں کی حالت بگڑتی رہی کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی روح کو بھول گئے اور اُن سے صرف دکھاوا ہی رہ گیا۔مسلمانوں کو اس مثال میں ایک سبق یہ بھی دیا گیا ہے کہ وہ مسلمان جو روزے کی روح کو سمجھنے اور تبتل الی اللہ کی طرف بڑھنے ، روزوں میں حمد و ذکر کی طرف توجہ دینے ، اپنی نمازوں کی حفاظت کرنے کی بجائے صرف اپنے روزے رکھنے پر ہی فخر کرتے ہیں، اُن کے روزے ویسے ہی روزے رہ جائیں گے جیسے پہلوں کے تھے۔اگر تقویٰ مدنظر نہیں تو تمہارا بھی وہی حال ہوگا جو پہلے دینوں کے ماننے والوں کا ہوا تھا۔بعض نام نہاد بزرگ فرض روزوں کے علاوہ نفلی روزے بھی رکھتے ہیں تو اُس کا بھی اظہار کر دیتے ہیں حالانکہ نفل عموماً چھپی ہوئی عبادت ہے۔ایسے لوگوں کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی ذکر فرمایا ہے کہ مہمان آجائے تو کھانا منگوا کر کہیں گے کہ آپ کھا ئیں مجھے کچھ عذر ہے۔یا کھانے کے وقت کسی کے ہاں پہنچ جائیں گے جب میزبان خاطر مدارت کرنے لگے تو کہتے ہیں کہ نہیں نہیں، میں کچھ کھا پی نہیں سکتا، کچھ مجبوری ہے۔یعنی چھپے ہوئے الفاظ میں اپنے روزے کا بتانا مقصود ہوتا ہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 4 صفحہ 418-419 مطبوعہ ربوہ ) پھر ایسے روزے دار بھی رمضان میں ہیں جو روزے کی لمبائی کا ، مثلاً آجکل گرمیوں کی وجہ سے ضرورت سے زیادہ لمبے، کافی لمبے روزے ہیں تو اس کا اظہار کریں گے۔ضرورت سے زیادہ روزوں کی لمبائی نہیں بلکہ ضرورت سے زیادہ اُن کا اظہار ہوتا ہے۔پھر اپنی بزرگی جتانے کے لئے اپنی سحری افطاری کی تفصیل بھی بتانے لگ جاتے ہیں کہ تھوڑا کھاتا ہوں، بہت معمولی سحری کھا کے روزہ رکھتا ہوں، بہت معمولی سی افطاری کرتا ہوں۔بیشک بعض دفعہ ایسا اظہار بے اختیار ہو جاتا ہے اور اُس میں کوئی بناوٹ نہیں ہوتی لیکن بہت سے ایسے بھی ہیں جو خاص طور پر اظہار کرتے ہیں تا کہ اُن کے روزے کی اہمیت اور کم کھانے کا دوسروں پر رعب پڑے۔بلکہ غیروں میں ہمارے نام نہاد علماء میں سے بعض لوگ تو ایسے بھی