خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 395 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 395

خطبات مسرور جلد 11 395 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 جولائی 2013ء ہیں جو دین کے غم میں اپنی کم خوراکی کا اظہار کرتے ہیں۔ایسے ہی ایک نام نہاد عالم کا ایک غیر از جماعت دوست نے واقعہ سنایا کہ عالم بڑے اچھے مقرر تھے اور جماعت کے خلاف تو اور بھی زیادہ دھواں دار تقریریں کیا کرتے تھے۔تو یہ اُس غیر احمدی کے پاس جا کر ٹھہرے، وہ غیر از جماعت اُن کا بڑا معتقد اور مرید تھا ، بڑی خاطر تواضع انہوں نے کی ، ناشتے کے وقت بھی مرغ روسٹ رکھے، اور کہتے ہیں کہ یہ جو بہت بڑے مقرر و عالم تھے، یہ اُس وقت بھی تین مرغ روسٹ کھا گئے۔تو یہ علماء بہر حال کھانے کے شوقین تو ہوتے ہیں۔خیر اس کے بعد جلسہ تھا۔جلسہ میں تقریر کرنی تھی ، وہاں گئے تو مجمع میں رعب ڈالنے کے لئے شروع ہی اس طرح کیا کہ اس دین کے خادم ( سید تھے ) اور نواسئہ رسول کے منہ میں اُمت کے غم میں صبح سے ایک کھیل بھی نہیں گئی، یا ایک دانہ بھی نہیں گیا۔وہ غیر از جماعت کہتے تھے کہ میں سامنے بیٹھا ہوا اور میرے سامنے کہ جس کے گھر سے تین سالم مرغے ہڑپ کر کے آئے ہیں ، یہ کہہ رہے ہیں۔ویسے اُس عالم نے بھی ٹھیک کہا تھا کہ چاول کا دانہ تو انہوں نے کھایا نہیں تھا، تین مرغے کھائے تھے۔بہر حال ایسے مسلمان ہیں جن کے دین کے درد اور عبادتیں بھی اور روزے بھی جو ایک عبادت ہے، خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے نہیں ہوتے بلکہ دکھاوے کے لئے ہوتے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تمہاری ہر عبادت کا مقصد تقویٰ ہونا چاہئے۔اگر تمہاری عبادتیں صرف ظاہری اظہار ہیں تو نہ پہلوں کو دکھاوے کے روزوں سے اجر ملا، نہ اب ملے گا۔ہاں اگر روزوں کے اظہار سے مقصد دنیا والوں کو مرعوب کرنا تھا تو پھر وہ تمہاری نیکی سے مرعوب ہو گئے اور یہ تمہارا اجر ہے جو تمہیں مل گیا۔اللہ کے ہاں تو اس کا کوئی اجر نہیں ہو گا۔اب اگر اللہ کے ہاں کسی نیکی کا اجر چاہتے ہو، روزوں کا اجر چاہتے ہو تو یہ تقویٰ کے بغیر نہیں ہو سکتا اور تقویٰ کے بارے میں صرف خدا تعالیٰ فیصلہ فرما سکتا ہے کہ کون تقویٰ پر چلنے والا ہے اور کون نہیں۔پس جب ایک مومن اس نہج پر سوچے گا اور اپنا رمضان گزارنے کی کوشش کرے گا تو یہ روزے خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہوں گے، اس کا ذریعہ بنیں گے۔یہ روزے تزکیہ نفس کرنے والے بنیں گے۔یہ روزے آئندہ نیکیوں کے جاری رہنے کا ذریعہ ہوں گے۔ایسا شخص اُن لوگوں میں شامل ہوگا جن کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص رمضان کے روزے ایمان کی حالت اور اپنا محاسبہ نفس کرتے ہوئے رکھے اُس کے سابقہ گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔(صحیح البخاری کتاب الایمان باب صوم رمضان احتسابا من الایمان حدیث نمبر 38)