خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 352
خطبات مسرور جلد 11 352 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 جون 2013ء اپنی طرف سے وضاحت کے نام پر حاشیہ آرائی بھی کر دیتے ہیں۔یہ پھر قولِ سدید نہیں رہتا بلکہ بعض حالات میں قولِ سدید کا خون ہو رہا ہوتا ہے۔ایک صحیح بات ایک آدھ لفظ کی حاشیہ آرائی سے اصلاح کرنے والوں کے سامنے، یا بعض دفعہ اگر میرے سامنے بھی آرہی ہو تو حقیقت سے دور لے جاتی ہے اور نتیجہ اصلاح کا صحیح طریق اپنانے کے بجائے غلط طریق اپنایا جاتا ہے جس کے نتیجہ میں اصلاح کے بجائے نقصان ہوتا ہے۔مثلاً بعض دفعہ اصلاح نرمی سے سمجھانے یا صرف نظر کرنے یا پھر معمولی سرزنش کرنے سے بھی ہو سکتی ہے لیکن ایک غلط لفظ فیصلہ کرنے والے کو سخت فیصلہ کرنے کی طرف لے جاتا ہے جس سے بجائے اصلاح کے نقصان ہورہا ہوتا ہے۔اس لئے فرمایا کہ حق کے ساتھ ،سچائی کے ساتھ حکمت بھی مدنظر رہنی چاہئے۔اگر حکمت ہوگی تو تبھی قول سدید بھی ہو گا۔اور حکمت یہ ہے کہ معاشرے کی اصلاح اور امن کا قیام ہر سطح پر ہو، یہ مقصود ہو نہ کہ فساد۔ہر پس اس حکمت کو مد نظر رکھتے ہوئے جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے، موقع اور محل کی مناسبت سے بات ہونی چاہئے۔یعنی ہر سچی بات حکمت کے بغیر اور موقع اور محل کو سامنے رکھے بغیر کرنا قول سدید نہیں ہے۔یہ پھر لغویات اور فضولیات میں شمار ہو جائے گا۔اور یہ صورتِ حال بجائے ایک انسان کو خدا تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے، اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب بنا سکتی ہے۔پس ایک مومن کو تقویٰ پر چلتے ہوئے قولِ سدید کی باریکیوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔تقویٰ کی باریکیوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔اگر باریکی سے اس بات پر نظر ہوگی تو اللہ تعالیٰ کے پیار کی نظر پھر ایسے انسان پر پڑتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”انسان کو دقائق تقویٰ کی رعایت رکھنی چاہئے۔“ یعنی جو باریکیاں ہیں تقویٰ کی اُن کو سامنے رکھنا چاہئے۔سلامتی اسی میں ہے کہ اگر چھوٹی چھوٹی باتوں کی پروا نہ کرے تو پھر ایک دن وہی چھوٹی چھوٹی باتیں کبائر کا مرتکب بنادیں گی اور طبیعت میں کسل اور لا پروائی پیدا ہو کر پھر ایسا انسان ہلاک ہو جائے گا“۔فرمایا: ”تم اپنے زیر نظر تقویٰ کے اعلیٰ مدارج کو حاصل کر نا رکھو اور اس کے لئے دقائق تقوی کی رعایت ضروری ہے۔“ ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 442 ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ ) پھر ایک جگہ آپ نے فرمایا کہ : ”سچی خوشحالی اور راحت تقویٰ کے بغیر حاصل نہیں ہوتی۔اور تقویٰ پر قائم ہونا گو یا زہر کا پیالہ پینا ہے بہت مشکل کام ہے۔تقویٰ پر قائم ہوتے ہوئے بعض دفعہ سچی بات کہنا بھی انسان کو مشکل میں ڈال دیتا ہے۔فرمایا کہ متقی کے لئے خدا تعالیٰ ساری راحتوں کے سامان مہیا کر دیتا