خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 353
خطبات مسرور جلد 11 353 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 جون 2013ء ہے۔مَن يَتَّقِ اللهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقُهُ مِنْ حَيْثُ لا يَحْتَسِبُ۔(الطلاق:3,4) پس خوشحالی کا اصول تقویٰ ہے۔لیکن حصول تقویٰ کے لئے نہیں چاہئے کہ ہم شرطیں باندھتے پھریں۔تقویٰ اختیار کرنے سے جو مانگو گے ملے گا۔خدا تعالیٰ رحیم و کریم ہے۔تقویٰ اختیار کرو جو چاہو گے وہ دے گا۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 90۔ایڈ یشن 2003 ء مطبوعہ ربوہ ) بہر حال تقومی مد نظر ہو تو پھر آگے ہر کام انسان کا چلتا ہے، چاہے وہ سچائی ہے یا دوسرے اعمال ہیں۔پس اللہ تعالیٰ کے کسی بھی حکم کو معمولی نہیں سمجھنا چاہئے۔اور یہ قولِ سدید کا حکم تو ایسا ہے کہ اس پر معاشرے کے امن کی بنیاد ہے۔معاشرے کی اصلاح کی بنیاد اس پر ہے۔تبھی تو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح جو مرد اور عورت کے بندھن کا اسلامی اعلان ہے اور آئندہ نسل کے جاری ہونے کا ایک سلسلہ ہے، اس میں ان آیات کو شامل فرمایا ہے۔(سنن ابن ماجه كتاب النكاح باب خطبة النكاح حدیث (1892)۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا، اس کا دائرہ صرف گھر تک محدود نہیں ہے بلکہ پورے معاشرے میں پھیلا ہوا ہے۔اس سے معاشرے میں فساد بھی پیدا کیا جاسکتا ہے اور امن اور سلامتی بھی پیدا کی جاسکتی ہے۔پس اس پر جس طرح خدا تعالیٰ چاہتا ہے اُس طرح عمل کرنا انتہائی ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ پھر اگلی آیت میں فرماتا ہے کہ تمہاری تقویٰ کی باریک راہوں کی تلاش کی کوشش، اور قولِ سدید کی جزئیات پر قائم رہنے کی کوشش تمہیں خدا تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بنائے گی۔اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کی اصلاح کرے گا۔سچائی کے اختیار کرنے سے تمہارے سے پھر نیک اعمال ہی سرزدہوں گے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، قولِ سدید کی وجہ سے تم لغو باتوں سے بھی پر ہیز کرنے والے بن جاؤ گے۔لغو بات سے پر ہیز بذات خود پھر نیک اعمال کی طرف لے جاتا ہے۔برائیوں سے دور کرتا ہے۔ایک بڑی مشہور حدیث ہے۔ہم اکثر سنتے ہیں۔ایک شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کہ آج تم یہ عہد کر لو کہ تم نے ہمیشہ سچائی پر قائم رہنا ہے، جھوٹ کبھی نہیں بولنا‘ اگر اس پر عمل کرتے رہے تو فائدہ ہوگا۔تمہاری برائیاں چھٹ جائیں گی۔تو اس نے اس پر عمل کرتے ہوئے اپنی تمام چھوٹی بڑی برائیوں اور گناہوں سے چھٹکارا پا لیا۔التفسیر الکبیر لامام رازی جزء 16 صفحہ 176 تفسیر سورۃ التوبه زیر آیت نمبر 119 دار الكتب العلمیة بیروت 2004ء) اور جب انسان برائیوں اور گناہوں سے چھٹکارا حاصل کرتا ہے تو پھر خدا تعالیٰ کا وعدہ اور فعل