خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 348
خطبات مسرور جلد 11 348 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 جون 2013ء کے ذریعہ سے ہوا تھا۔ان کے دادا مکرم چوہدری عبدالرحیم صاحب کا تعلق گورداسپور انڈیا سے تھا۔اسی طرح آپ کی دادی سردار بیگم صاحبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی چوہدری محمد اسماعیل صاحب کی صاحبزادی تھیں۔ان کے دادا چوہدری عبدالرحیم صاحب نے 1924ء میں بیعت کی تھی۔بیعت کے بعد انہیں اپنے والدین کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔یہ مخالفت کوئی آج سے نہیں ہے، یہ ہمیشہ سے ہے۔یہاں تک کہ اُن کے والد اس طرح ان کے دادا کو سزا دیا کرتے تھے کہ اُن کی ہتھیلیوں پر چار پائی کے پائے رکھ کے باندھ دیا کرتے تھے اور خود چار پائی پر سو جایا کرتے تھے۔اور اس طرح آپ کے دادا ساری رات اسی حالت میں بندھے رہتے تھے۔ان کی وجہ سے ان کی ہتھیلیوں میں نشان بھی پڑگئے تھے۔آخر 1929ء میں پھر یہ لاہور آ گئے اور وہیں رہائش اختیار کر لی۔اور حامد سمیع صاحب کی پیدائش بھی لاہور میں ہوئی۔تعلیمی لحاظ سے یہ چارٹڈا کا ؤنٹنٹ تھے اور ان کے والد بھی چارٹڈا کا ؤنٹنٹ تھے اور ان کی اپنی چارٹڈ اکاؤنٹینسی کی فرم تھی ، وہ چلایا کرتے تھے۔ان کی عمر شہادت کے وقت اڑتالیس سال کی تھی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔یہ عصر کی نماز کی ادائیگی کے بعد تقریباً ساڑھے چھ بجے اپنی فرم سے جو جناح روڈ کراچی میں تھی کار کے ذریعہ سے جارہے تھے اور غیر از جماعت دوست بھی ان کے ساتھ گاڑی میں سوار تھے۔کہتے ہیں یہ اپنے دفتر سے کچھ آگے نکلے ہیں تو نامعلوم حملہ آوروں نے جو کہ موٹر سائیکلوں پر سوار تھے ان پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی اور زخموں کی نوعیت سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ حملہ آور دوموٹرسائیکلوں پر سوار تھے اور گاڑی کے دونوں طرف سے انہوں نے حملہ کیا تھا۔کم وبیش چھ گولیاں آپ کے ماتھے پر لی تھیں اور پھر کمر پر، چہرے پر ، جس سے آپ موقع پر شہید ہو گئے۔انا للہ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔اور دو دوست بھی جیسا کہ میں نے کہا زخمی ہیں اور ایک کی حالت کافی تشویشناک ہے۔اللہ تعالیٰ رحم فرمائے اُن پر بھی۔بہر حال یہ لگتا ہے کہ وہ جو دو دوست زخمی تھے، اُن کو براہ راست گولیاں نہیں لگیں بلکہ ان سے گولیاں گزرکران کو جا کے لگتی رہی ہیں۔یہ شہید مرحوم اپنے حلقے کے سیکرٹری مال بھی تھے۔اس کے علاوہ پہلے خدام الاحمدیہ اور اب انصار کے شعبہ مال میں بھی ان کو خدمت کی توفیق ملی۔بڑے خوش طبع تھے، ہمدرد تھے۔بااخلاق انسان تھے اور ہمیشہ مسکراتے رہتے تھے۔انتہائی خیال اور محبت کرنے والے شخص تھے۔اپنی اہلیہ کے ساتھ بھی، بچوں کے ساتھ بھی ، دوسروں کے ساتھ بھی انتہائی شفقت کا سلوک کرنے والے تھے۔ان کے صدر صاحب حلقہ کہتے ہیں کہ شہید مرحوم انتہائی اطاعت گزار طبیعت کے مالک تھے۔کہتے ہیں کہ خاکسار