خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 347
خطبات مسرور جلد 11 347 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 جون 2013ء خص مدعی اسلام“ جو اسلام کا دعویٰ کرتا ہے۔یہ بات ثابت کر دیوے کہ اُس کے ہاتھ اور پیر اور دل اور دماغ اور اُس کی عقل اور اُس کا فہم اور اُس کا غضب اور اُس کا رحم اور اُس کا حلم اور اُس کا علم اور اُس کی تمام روحانی اور جسمانی قوتیں ، اور اُس کی عزت اور اُس کا مال ، اور اُس کا آرام اور سرور، اور جو کچھ اُس کا سر کے بالوں سے پیروں کے ناخنوں تک باعتبار ظاہر و باطن کے ہے، یہاں تک کہ اُس کی نیات اور اُس کے دل کے خطرات‘ دل کے خطرات بہت ہوتے ہیں۔فرمایا ”نیات اور اُس کے دل کے خطرات اور اس کے نفس کے جذبات سب خدا تعالیٰ کے ایسے تابع ہو گئے ہیں کہ جیسے ایک شخص کے اعضاء اُس شخص کے تابع ہوتے ہیں۔غرض یہ ثابت ہو جائے کہ صدق قدم اس درجہ تک پہنچ گیا ہے کہ جو کچھ اُس کا ہے وہ اُس کا نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا ہو گیا ہے۔اور تمام اعضاء اور قویٰ الہی خدمت میں ایسے لگ گئے ہیں کہ گویا وہ جوارح الحق ہیں۔“ آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 59-60) یعنی اب اعضاء بھی اللہ تعالیٰ کے ہو گئے ہیں۔پس یہ ہے وہ مقام جو ہر احمدی کو حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔جو ہم میں سے ہر ایک کو حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔اور جب یہ مقام ہم حاصل کرنے کی کوشش کریں گے تو تبھی حقیقی مسلمان ہونے کا اعلان کر سکتے ہیں تبھی ہم خدا تعالیٰ کی پناہ میں آنے والے بھی ہوں گے۔اللہ تعالیٰ کرے کہ بحیثیت جماعت، جماعت کی کثرت اس مقام کو حاصل کرنے والی ہو۔دعاؤں کی طرف توجہ دینے والی ہو۔ہم حقیقت میں اسلامی رنگ میں رنگین ہونے والے ہوں اور پھر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرتے ہوئے اُن لوگوں میں شمار ہوں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔بُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَ۔(النحل:90) کہ فرمانبرداری کے لئے خالص ہو کر اسلام کے احکامات پر عمل کرنے والوں کے لئے بشارت ہے۔اور جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت ملتی ہے تو دشمن کی بیخ کنی اور خاتمہ کے نظارے بھی نظر آتے ہیں۔خدا کرے کہ ہم میں سے اکثریت کی دعاؤں کی طرف توجہ پیدا ہو جائے ، بلکہ ہر ایک احمدی کی دعاؤں کی طرف توجہ پیدا ہو اور اللہ تعالیٰ سے خاص تعلق پیدا ہو اور جلد ہم مخالفین کے انجام کو بھی دیکھنے والے ہوں۔اس کے بعد اب میں ، جیسا کہ میں نے کہا، کراچی میں ایک شہید کئے گئے ہیں، اُن کے کچھ کو ائف پیش کرتا ہوں۔انشاء اللہ نماز جمعہ کے بعد اُن کا جنازہ غائب بھی ہوگا۔اُن کا نام مکرم چوہدی حامد سمیع صاحب تھا۔چوہدری عبدالسمیع خادم صاحب مرحوم کے بیٹے تھے۔گلشن اقبال کراچی میں ہی رہتے تھے۔11 جون کو ان کی شہادت ہوئی ہے۔ان کے خاندان میں احمدیت کا نفوذان کے دادا محترم چوہدری عبدالرحیم صاحب