خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 268
خطبات مسرور جلد 11 268 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 3 مئی 2013ء (پھر فرمایا کہ : ” کوئی ناصر اور مددگار قرار نہ دینا۔( خدا تعالیٰ کے علاوہ کوئی مددگار نہ ہو۔) اور دوسرے یہ کہ اپنی محبت اُسی سے خاص کرنا۔اپنی عبادت اُسی سے خاص کرنا۔اپنا تذلل اُسی سے خاص کرنا۔( بعض لوگ جو انسانوں کے آگے جھکتے ہیں، فرمایا نہیں، ہر قسم کی عاجزی اور تذلل صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے ہو۔اپنی امیدیں اُسی سے خاص کرنا۔اپنا خوف اُسی سے خاص کرنا۔(فرمایا: ” پس کوئی تو حید بغیر ان تین قسم کی تخصیص کے کامل نہیں ہو سکتی۔اول ذات کے لحاظ سے تو حید۔یعنی یہ کہ اُس کے وجود کے مقابل پر تمام موجودات کو معدوم کی طرح سمجھنا“۔( یعنی اُن کی کوئی حقیقت نہیں ہے ) اور تمام کو ہالکتۃ الذات اور باطلہ الحقیقت خیال کرنا۔( یعنی ہر چیز اپنی ذات میں فنا ہونے والی ہے اور حقیقت میں کسی چیز کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔) دوم صفات کے لحاظ سے تو حید۔یعنی یہ کہ ربوبیت اور الوہیت کی صفات بجز ذات باری کے کسی میں قرار نہ دینا“۔( پالنے والا بھی اللہ تعالیٰ ہے اور عبادت کے لائق بھی صرف وہی ہے۔اور جو بظا ہر رب الانواع یا فیض رسان نظر آتے ہیں۔( جو لوگ بظاہر فائدہ دیتے ہیں، دنیاوی فائدے لوگوں سے پہنچتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو ذریعہ بنایا ہوا ہے اُن سے فائدے بھی پہنچتے ہیں، وہ پرورش کا ذریعہ بھی بن جاتے ہیں) یہ اُسی کے ہاتھ کا ایک نظام یقین کرنا۔( اُن کے بارے میں یہ سمجھنا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا نظام ہے۔اللہ تعالیٰ نے کسی کو ذریعہ بنایا ہے، نہ کہ وہ خود اُس چیز کو دینے کے مالک ہیں۔اصل مالک اللہ تعالیٰ ہے اور یہ لوگ ذریعہ ہیں۔) (فرمایا:) ”تیسرے اپنی محبت اور صدق اور صفا کے لحاظ سے توحید۔یعنی محبت وغیرہ شعار عبودیت میں دوسرے کو خدا تعالیٰ کا شریک نہ گرداننا۔( یعنی یہ جو تو حید اور محبت ہے اس میں عبودیت کے جو شعار ہیں دوسرے کو خدا تعالیٰ کا شریک نہ گرداننا ) ” اور اسی میں کھوئے جانا۔سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب۔روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 349-350) صرف یہی نہیں کہ خدا تعالیٰ کا شریک نہیں بنانا بلکہ اس میں کھوئے جانا ، اس میں ڈوب جانا، خدا تعالیٰ کی ذات میں اپنے آپ کو فنا کر لینا۔پس یہ باتیں اگر ایک مومن میں ہوں تو وہ خدا تعالیٰ کو یادرکھنے کا حق ادا کرنے والا کہلا سکتا ہے، تقویٰ پر چلنے والا کہلا سکتا ہے۔تقویٰ کے کمال کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ یہ فرمایا ہے کہ کمال تقویٰ کا یہی ہے کہ انسان کا اپنا وجود ہی نہ رہے۔پھر فرمایا کہ اصل میں یہی