خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 267
خطبات مسرور جلد 11 267 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 3 مئی 2013 ء خوش قسمت لوگ ہیں کہ ہمیں اُس نے اس نعمت کو قبول کرنے کی توفیق دی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں اور آپ کے طفیل ملنے والی نعمت تھی اور ہم اُن لوگوں میں شمار ہوئے جو اس انعام میں سے حصہ پانے والے ہیں اور حقیقت میں انعام سے حصہ پانے والے اور اس کی شکر گزاری ادا کرنے والے ہم تبھی ہو سکتے ہیں جب ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشادات اور توقعات پر پورا اترنے والے ہوں ، اس کے لئے کوشش کرنے والے ہوں۔ورنہ ہم اللہ تعالیٰ کو بھلانے والے اور اپنی غفلتوں میں ڈوب جانے والے ہوں گے اور نتیجہ خدا تعالیٰ کی ناراضگی مول لینے والے ہوں گے۔ہمیں ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے آقاو مطاع حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں توحید کے قیام کے لئے اور اللہ تعالیٰ کے وجود کو ثابت کرنے کے لئے آئے تھے اور حقیقی تقویٰ بھی اُسی وقت قائم ہوتا ہے جب خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر کامل یقین ہو اور اُس کی رضا مقصود و مطلوب ہو اور خدا تعالیٰ کی توحید میں انسان کھویا جائے اور جب یہ ہو جائے تو حقیقی تقوی انسان میں پیدا ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : تو حید صرف اس بات کا نام نہیں کہ منہ سے لا إلهَ إِلَّا اللہ کہیں اور دل میں ہزاروں بت جمع ہوں۔بلکہ جو شخص کسی اپنے کام اور مکر اور فریب اور تدبیر کو خدا کی سی عظمت دیتا ہے یا کسی انسان پر ایسا بھروسہ رکھتا ہے جو خدا تعالیٰ پر رکھنا چاہئے یا اپنے نفس کو وہ عظمت دیتا ہے جو خدا کو دینی چاہئے ان سب صورتوں میں وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک بت پرست ہے۔بہت صرف وہی نہیں ہیں جو سونے یا چاندی یا پیتل یا پتھر وغیرہ سے بنائے جاتے ہیں اور اُن پر بھروسہ کیا جاتا ہے بلکہ ہر ایک چیز یا قول یا فعل جس کو وہ عظمت دی جائے جو خدا تعالیٰ کا حق ہے وہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں بہت ہے“۔( فرمایا : ” یادر ہے کہ حقیقی توحید جس کا اقرار خدا ہم سے چاہتا ہے اور جس کے اقرار سے نجات وابستہ ہے یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو اپنی ذات میں ہر ایک شریک سے خواہ بت ہو، خواہ انسان ہو، خواہ سورج ہو یا چاند ہو یا اپنا نفس، یا اپنی تدبیر اور مکر فریب ہو، منزہ سمجھنا اور اُس کے مقابل پر کوئی قادر تجویز نہ کرنا۔کوئی رازق نہ ماننا۔کوئی معز اور مُزِل خیال نہ کرنا۔( یعنی یہ ہمیشہ یادرکھنا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے بالا ہے اور دنیا کی کوئی چیز ، ہر عزت اور ذلت جو انسان کو ملتی ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، کوئی انسان نہ کسی کو معزز بنا سکتا ہے نہ ذلیل کر سکتا ہے۔پس یہ ہے تو حید کا اصل کہ اللہ تعالیٰ ہی کو عزت دینے والا اور ذلت دینے والا سمجھنا۔اللہ تعالیٰ ہی ہے جو انسان کو عزتوں کا مالک بھی بناتا ہے اور اگر اُس کے غلط کام ہوں تو اُس کو ذلیل ورسوا بھی کرتا ہے۔)