خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 239 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 239

239 خطبات مسرور جلد 11 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 اپریل 2013ء بادشاہوں میں شاید سب سے بہتر وہ تھا تو اللہ تعالیٰ بھی اُس کی مدد فرماتا رہا۔اُس نے اپنا ایک اصول یہ بتایا کہ حکومت کرنے کے لئے انصاف، حکمت، دانائی ، غریبوں کا بھی خیال رکھنا، عوام کا خیال رکھنا، حکومت کے کارندوں کا بھی خیال رکھنا۔جہاں حملہ کیا اور جن ملکوں کو زیر کیا، اُن کے عوام کا بھی حق ادا کرنا ظلم نہ کرنا ہے۔اگر کسی چیز کے دس حصے بنائے جائیں تو کہتا ہے میری کامیابی کے نو حصے ان چیزوں پر مشتمل ہیں اور ایک حصہ صرف تلوار کا ہے۔(ماخوذ از ترک تیموری مترجم سید ابوالہاشم ندوی صفحہ 20 ، 73 تا 77 ، 116 تا 120۔سنگ میل پبلیکیشنز لا ہور 2001ء) اب اگر ہم ہر اسلامی ملک میں جھانک کر دیکھیں تو اُن میں صرف اپنے مفادات نظر آتے ہیں۔رعا یا اور عوام کی کسی کوکوئی فکر نہیں۔صرف اپنے تخت اور اپنی حکومت کی فکر ہے۔علماء ہیں تو وہ اپنا کام چھوڑ کر مسلمانوں کی دینی تربیت کرنے کی بجائے اقتدار کی دوڑ میں پڑے ہوئے ہیں۔یا پھر کچھ ایسے ہیں جو اسلام کے نام پر دہشتگر تنظیموں کو چلا رہے ہیں یا اُن کی مدد کر رہے ہیں۔دینی مدرسوں میں جہاد کے نام پر بچوں کی عسکری تربیت کی جاتی ہے۔اسلحہ کے استعمال اور دہشتگردی کے لئے استعمال ہونے والے بم بنانے کے لئے طریقے سکھائے جاتے ہیں۔اور یہ سب کچھ کس کے خلاف استعمال ہونا ہے؟ مسلمانوں کے۔مسلمان، مسلمان کے خون کا پیاسا ہوا ہوا ہے۔اسلام جو امن اور محبت کا مذہب ہے، جس کا مطلب ہی یہ ہے کہ امن ، حفاظت اور تکلیفوں اور مشکلات سے نکالنے والا۔آج اس مذہب کو ان لوگوں نے اس قدر بد نام کر دیا ہے کہ دنیا میں کہیں بھی کوئی دہشتگردی کا واقعہ ہو تو پہلے مسلمان تنظیموں کا نام لیا جاتا ہے اور اکثر تنظیمیں اس کو قبول بھی کر لیتی ہیں اور قبول نہ بھی کریں تب بھی اُن پر ہی شک جاتا ہے۔گزشتہ دنوں امریکہ میں جو میراتھن (Marathon) ہو رہی تھی۔ان کے کھلاڑی دوڑ رہے تھے تو وہاں دو بم دھماکے ہوئے ہیں اور جو ظلم ہوا ہے تو فور وہ لوگ جو اسلام مخالف ہیں ، جو اسلام کو بدنام کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں، انہوں نے کہنا شروع کر دیا کہ یہ مسلمانوں نے کیا ہوگا۔کسی تنظیم کا نام نہیں لیتے۔وہ تو مسلمانوں کا بحیثیت مجموعی کہتے ہیں۔وہ تو شکر ہے کہ اس دفعہ ان تنظیموں کی طرف سے بھی انکار کیا گیا ہے کہ ہمارا کوئی تعلق نہیں۔اگر صرف یہی بیان دیتے تو کافی تھا لیکن کیونکہ تقویٰ اور اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری، اطاعت اور اُس کے احکامات پر عمل کرنے سے یہ لوگ عاری ہیں، اُس سے دور ہٹے ہوئے ہیں، اس لئے ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ ہم نے کیا تو نہیں لیکن جس نے بھی کیا ہے اُس نے بہت اچھا کیا ہے اور ہم اُس کی حمایت کرتے ہیں۔تو ان نہتوں پر حملہ کر کے جو دنیا سے جمع ہوئے ہوئے تھے، کیا ملا؟ یا ان حمایت کرنے والوں