خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 240
240 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 اپریل 2013ء خطبات مسرور جلد 11 کو اس سے کیا حاصل ہوگا ؟ ایک طرف تو یہ دعوی ہے کہ ہم سے زیادہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی اور کو محبت نہیں ہے۔اور دوسری طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ اور تعلیم کے خلاف باتیں کی جاتی ہیں۔محبت کرنے والے تو محبوب کی چھوٹی سے چھوٹی بات کو بھی اہمیت دیتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو جنگ میں بھی معصوموں ، بچوں ،عورتوں، بوڑھوں، راہبوں کو نقصان پہنچانے سے منع کیا ہے۔(مصنف ابن ابی شیبة جلد 7 صفحه 654 و 656 كتاب الجهاد باب من ينهى عن قتله في دار الحرب حدیث 7 و 21 مطبوعه دارالفکر) اور قرآن کریم نے تو جنگ کی اجازت دے کر بھی خاص طور پر ہر مذہب کی حفاظت کی ہے۔کجا یہ کہ جنگ کے بغیر کئی جانوں کو تلف کر دیا ، کئی لوگوں کو ان کے اعضاء سے محروم کر دیا۔بہت سارے لوگ جو بچے ہیں ان کے بھی کسی کا بازو کاٹنا پڑا، کسی کی ٹانگ کاٹنی پڑی۔اس لئے ایک امریکن نے ، لکھنے والے جرنلسٹ نے یا کالم لکھنے والا تھا شاید، اخبار میں انہیں یہاں تک کہہ دیا کہ اس کا صرف ایک علاج ہے کہ تمام مسلمانوں کو قتل کر دو۔تو یہ جرات غیر مسلموں میں کیوں پیدا ہورہی ہے؟ اس کو ہوا خود مسلمان دے رہے ہیں۔یہاں مغرب میں تو اکا دُکا یہ واقعہ ہوتا ہے، اُس کے بعد یہ باتیں سننی پڑتی ہیں۔اسلامی ممالک میں تو بے چینی تقریباً ستر فیصد ممالک میں ہے اور روز کا معمول ہے۔پاکستان میں دیکھ لیں۔افغانستان میں دیکھ لیں۔مصر میں دیکھ لیں۔شام میں دیکھ لیں۔لیبیا میں دیکھ لیں۔صومالیہ میں دیکھ لیں۔سوڈان میں دیکھ لیں۔الجزائر میں دیکھ لیں۔ہر جگہ مسلمان ، مسلمان کو قتل کر رہا ہے اور ظلم یہ ہے کہ مذہب کے نام پر کر رہا ہے۔اگر ظلم کرنے ہی ہیں تو کم از کم مذہب کے نام پر تو نہ کریں۔اس قتل و غارت کو جہاد کا نام تو نہ دو۔جن اسلامی ملکوں میں کھل کر دہشتگردی نہیں ہے تو وہاں کے عوام کے حق ادا نہیں کئے جا رہے۔وہاں انصاف نہیں ہے۔غریب غریب تر ہو رہا ہے اور امیر امیر تر ہوتا چلا جارہا ہے۔اب سعودی عرب میں جو تیل کی دولت سے مالا مال ملک ہے، بڑا امیر ملک کہلایا جاتا ہے وہاں بھی غریب لوگ ہیں۔غریب بیوائیں، یتیم بچے دو وقت کی روٹی کو ترستے ہیں۔کہنے کو تو اسلام کے نام پر عورت کے گھر سے باہر نکلنے پر پابندی ہے۔کام کرنے پر ان لوگوں نے پابندی لگائی ہوئی ہے۔لیکن اُس کی ضرورت کا خیال بھی جو حکومت کو رکھنا چاہئے تھاوہ نہیں رکھا جاتا۔جو راشن مقرر کیا ہے، اگر کیا بھی ہے تو وہ بھی اتنا تھوڑا ہے کہ کسی کا پیٹ نہیں بھر سکتا۔بادشاہوں کے اپنے محلوں میں تو دیواروں پر بھی سونے کے پانی پھرے ہوئے ہیں۔تیل کی دولت کا