خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 238
خطبات مسرور جلد 11 238 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 اپریل 2013ء چاہئے۔اور ساری روکوں کے باوجود بھی جماعت پھر بھی ترقی کر رہی ہے۔پس ایک دنیاوی لحاظ سے کمزور جماعت کی یہ ترقی اس وجہ سے ہے کہ وہ خدا جو نِعْمَ الْمَوْلى وَ نِعْمَ النَّصِير ہے ہمارے ساتھ ہے۔اور یہی خدا تعالیٰ نے مومنوں کی نشانی بتائی ہے کہ خدا تعالیٰ کی تائیدات اور نصرت اُن کے شاملِ حال رہتی ہیں۔اب اگر انصاف کی نظر سے دیکھیں تو اسلام کی خدمت کے نام پر جو بھی تنظیمیں بنی ہوئی ہیں اور اپنی طرف سے جو جہادی کارروائیاں بھی کر رہی ہیں ، اُن کا نتیجہ سوائے اسلام کی بدنامی کے اور کچھ نہیں۔اور پھر اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ میں اپنے راستے میں جہاد کے لئے نکلنے والوں کو کامیاب کرتا ہوں، انہیں کامیابیاں عطا فر ما تا ہوں تو کون سی کامیابی ہے جو انہوں نے حاصل کی ہے؟ مسلمان ہی مسلمان کو قتل کر رہا ہے۔اسلحہ ہے تو وہ بڑی طاقتوں سے لیا جا رہا ہے۔مسلمانوں کے پاس تو اپنی نہ کوئی فیکٹریاں ہیں ، نہ اسلحہ خانے ہیں یا اس کے کارخانے ہیں۔اب شام میں بھی جو کچھ ہو رہا ہے، وہاں کے حکومت مخالف جو لوگ ہیں، یا گروپ ہے یا مختلف قسم کے گروہ ہیں جو ا کٹھے ہو گئے ہیں ، اُن کا مغربی دنیا سے یہی مطالبہ ہے، وہ یہی کہہ رہے ہیں کہ اگر تم حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے ہو تو ہمیں اسلحہ دو۔اب یہ اسلحہ حکومت کا بھی اور حکومت مخالف گروہوں کا بھی، دونوں میں سے کسی کے بھی خلاف جو استعمال ہو رہا ہے، یہ کون لوگ ہیں جن کے خلاف استعمال ہو رہا ہے؟ ( ظاہر ہے کہ ) صرف مسلمانوں کے خلاف استعمال ہو رہا ہے۔تقویٰ نہ حکومت میں ہے اور نہ دوسرے گروہ میں۔اللہ تعالیٰ کے احکامات کی فرمانبرداری نہ ایک گروہ میں ہے، نہ دوسرے میں ہے۔پس یہ دونوں طرف سے تقویٰ سے عاری لوگ ہیں اور یہی دین سے دُور ہٹنے والے لوگ ہیں۔اللہ تعالیٰ کے احکامات کو ر ڈ کرنے والے لوگ ہیں۔امیر تیمور ایک مسلمان حکمران گزرا ہے جو معمولی حیثیت سے اُٹھا اور دنیا کے بہت بڑے وسیع علاقے میں اُس کی حکومت قائم ہوئی۔وہ کہتا ہے کہ جب جنگوں کے لئے میں نکلتا ہوں یاکسی ملک پر حملہ کرنا ہو تو میں یہ دیکھتا ہوں کہ وہاں جو مسلمان بادشاہ ہیں ، وہ عوام کا حق ادا کر رہے ہیں یا نہیں۔اور یادین پر قائم ہیں کہ نہیں۔اگر عوام کا حق نہیں ادا کر رہے، نہ ہی وہ دین پر قائم ہیں اور ظلم و بربریت اُن ملکوں میں پھیلی ہوئی ہے تو میں پھر اُن پر حملہ کرتا ہوں اور اُن کو زیر کر لیتا ہوں اور پھر وہاں ایسا نظام جاری کرتا ہوں جو اسلامی نظام ہو۔اس وجہ سے جو مجھے کامیابیاں حاصل ہوتی ہیں وہ خدا تعالیٰ کی مددو تائید کی وجہ سے ہوتی ہیں۔بہر حال جس طرح وہ بیان کرتا ہے، اُس کی بہت سی پالیسیاں انصاف پر مبنی تھیں جس کی وجہ سے وہ کامیابیاں حاصل کرتا رہا۔بعض ظلم بھی اُس سے ثابت ہوتے ہیں لیکن لگتا یہ ہے کہ اُس زمانے کے