خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 237
خطبات مسرور جلد 11 237 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 اپریل 2013ء اُسے مان لینا اور ہم نے مان لیا تو اپنی حالتوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق بنانا اور ڈھالنا اور اس پر قائم رہنا ہماری بہت بڑی ذمہ داری ہے۔اس کے لئے ہمیں کوشش کرتے رہنا چاہئے۔ہم نے یہ ذمہ داری ادا کرنی ہے۔ہر احمدی کو یہ سامنے رکھنا چاہئے لیکن جیسا کہ میرے بعض الفاظ اور بعض فقروں سے ظاہر ہورہا ہوگا کہ میں عامتہ المسلمین کو بھی اس حوالے سے توجہ دلانی چاہتا ہوں۔چنانچہ جب میں نے سیاسی لیڈروں یا مولویوں کا حوالہ دیا تو یہ اُن کے لئے بھی تھا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایم ٹی اے کے ذریعہ ایک طبقہ ایسا ہے جو ہمارے پروگرام دیکھتا اور سنتا ہے اور اس کا اظہار بھی ہوتا رہتا ہے کہ اُن تک جماعت احمدیہ کا پیغام پہنچ رہا ہے۔پس اس حوالے سے میں اُن لوگوں تک بھی یہ پیغام پہنچانا چاہتا ہوں جو یہ سنتے ہیں اور دیکھتے ہیں۔گزشتہ دنوں مجھے پاکستان سے ہی ایک خط آیا اور اس طرح کے بعض دفعہ آتے رہتے ہیں۔چند دوست جو غیر از جماعت ہیں اکٹھے بیٹھ کر ایم ٹی اے دیکھتے ہیں یا انہوں نے احمدیت کا کچھ مطالعہ کیا ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ تمام باتیں جو آپ کرتے ہیں، یہ سن کر اور زمانے کے تمام حالات دیکھ کر ہمیں یقین ہے کہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ السلام سچے ہیں اور جماعت احمدیہ حق پر ہے۔ہماری نیک تمنائیں آپ کے ساتھ ہیں لیکن ہم میں معاشرے کا اور مولوی کا خاص طور پر مقابلہ کرنے کی جرات نہیں ہے۔اس لئے ہمیں بزدل سمجھ لیں کہ ہماری تمام ہمدردیوں کے باوجود، ہماری خواہش کے باوجود ہم جماعت میں اس خوف سے شامل نہیں ہو سکتے۔اسی طرح ایک شخص نے اپنے غیر از جماعت دوسرے دوست کو کہا کہ اگر یہ جماعت سچی ہوئی تو پھر ہمیں خدا کے عذاب سے بھی ڈرنا چاہئے جس سے اللہ تعالیٰ نے بچوں کے لئے ڈرایا ہے۔پس ایسے لوگوں کو بھی یادرکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ تقویٰ پر چلنے کا ارشاد فرما رہا ہے۔جماعت احمد یہ سچی ہے اور یقیناً ( سچی) ہے۔اُس کی سچائی پر خدا تعالیٰ کی 124 سالہ فعلی شہادت ہی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے اور ہونی چاہئے۔باوجود منظم مخالفتوں کے جو حکومتوں کی طرف سے بھی کی گئیں اور کی جارہی ہیں، باوجود علماء کے فتوؤں کے، اُن علماء کے فتوؤں کے جو سچائی سے ہٹے ہوئے ہیں، اُن کے کہنے کی وجہ سے بعض ملکوں میں خاص طور پر پاکستان میں مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔باوجود احمدیوں پر مظالم ڈھائے جانے کے، اُن کے مالوں کو ٹوٹنے کے، اغواء اور قتل کرنے کے، گھروں کو جلانے کے، ملازمتوں سے برطرف کرنے کے، بچوں کو سکولوں اور کالجوں میں ٹارچر دینے اور انہیں پڑھائی سے روکنے کے یہ لوگ نہ صرف اپنے ایمان پر قائم ہیں بلکہ پہلے سے بڑھ کر قربانیوں کے لئے تیار ہیں۔پس یہ احمدیت کی سچائی کا ، ایمان کا کافی ثبوت ہونا