خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 189 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 189

خطبات مسرور جلد 11 189 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 مارچ 2013ء میں نے ان کو فون کیا کہ میں بنگلہ دیش آ جاتا ہوں، میرا کینیڈا سے آنا آسان ہے۔جواب دیا کہ نہیں، یہاں خلیفہ وقت نے کہا ہوا ہے اور جماعت پورا خیال رکھ رہی ہے، تمہیں آنے کی ضرورت نہیں ہے۔کوئی بات بھی ہوتی تو وہ خلیفہ وقت سے ضرور پوچھتے۔ان کے بیٹے حافظ ناصر الدین، یہ حافظ قرآن ہیں لکھتے ہیں کہ میرے والد صاحب کے پاس مختلف لوگوں کی امانتیں تھیں اور لوگوں کی امانتوں اور چندوں اور وصیتوں کا حساب بھی آپ کے پاس ہوتا تھا جو آپ باقاعدگی سے ادائیگیاں کرتے اور پھر اُن کو اطلاع کرتے تھے۔مجد الدین صاحب ان کے بیٹے ہیں وہ کہتے ہیں کہ گھر میں کبھی کوئی بات ہوتی ، عام معاملات میں بھی بات کر رہے ہوتے تو تھوڑی دیر کے بعد یہ آتے اور کہتے کہ میں نے اس بارے میں مشورے کے لئے اور دعا کے لئے خلیفہ وقت کو خط لکھ دیا ہے۔ہر بات جو تھی وہ پوچھا کرتے تھے، چاہے وہ گھر یلو ہو۔اور کہا کرتے تھے کہ واقف زندگی کبھی بھی کسی چیز کا تقاضا نہیں کرتا۔کہتے ہیں وقف زندگی کے فارم میں اب تو مختلف شرائط بنادی گئی ہیں۔ہمارے سامنے تو وقف زندگی کا جو فارم تھا اُس میں صرف یہی ایک شرط تھی کہ مطالبہ نہیں کرنا۔اور ان کے بچے کہتے ہیں کبھی ہمیں یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ واقف زندگی ہونے کی وجہ سے ہمیں کسی چیز کی کمی ہو۔اپنے اوپر تنگی وارد کر کے بھی ہماری ضروریات پوری کر دیا کرتے تھے۔مصلح الدین صاحب کے والد بھی واقف زندگی تھے اور یہ اُن کے اکلوتے بیٹے تھے۔ان کو بھی انہوں نے وقف کیا اور کبھی بھی کسی قسم کی تنگی کا شکوہ نہیں کیا۔مصلح الدین صاحب، سات بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے۔حضرت صوفی غلام محمد صاحب بی ایس سی اور بیٹی تھے۔اُن کی جب سکول سے ریٹائر منٹ ہوئی تو انہوں نے حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی خدمت میں لکھا کہ میری ریٹائرمنٹ ہوگئی ہے اور میں تو وقف زندگی ہوں۔حکم کا انتظار کر رہا ہوں، اب میں نے کیا کرنا ہے۔تو کافی لمبا عرصہ جواب نہیں آیا۔مصلح الدین صاحب ہوسٹل میں تھے ، وہاں وظیفہ ملا کرتا تھا تو اس لئے کہ والد صاحب کے حالات تنگی کے ہوں گے، یہ ہوٹل چھوڑ کر آگئے اور اپنی جو وظیفہ کی رقم تھی ، وہ گھر کے خرچ کے لئے چلاتے رہے اور وہاں اُس وقت بڑی تنگی سے گزارہ ہوتارہا، پھر اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا۔یہ ایک واقعہ لکھتے ہیں، کہتے ہیں کہ میں ایک دفعہ کسی جماعتی کام سے اسلام آباد گیا ، تو میرا ایک دوست تھا ، اُس کو میں عرصے سے نہیں ملا تھا، اُس کے پاس گیا۔وہ باتوں میں پوچھنے لگا ، آجکل تم نائب وکیل المال بھی ہو، جماعت کے حالات تو اب اچھے ہیں، تمہیں کیا الا ونس ملتا ہے؟ کتنا ملتا ہے؟ مقصد اُس کے پوچھنے کا یہ تھا کہ اب تمہارا الا ونس یا تنخواہ جو ہے زیادہ ہونی چاہئے۔تو کہتے ہیں میں نے اُس کو کہا کہ مجھے جو کچھ ملتا ہے، اس میں اتنی برکت ہے کہ تم جو گورنمنٹ سروس میں کام کر رہے ہو اور سیکرٹری لیول کے