خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 190
خطبات مسرور جلد 11 190 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 مارچ 2013ء آدمی ہو، تمہیں بھی اُتنی برکت نہیں ہے۔خیر کہتے ہیں، بحث کے بعد رات کو سو گئے۔صبح اُٹھ کر تیار ہوئے دفتر جانے کے لئے۔انہوں نے بھی سیکریٹریٹ میں کسی جماعتی کام میں جانا تھا، جارہے تھے تو سڑک پر کھڑے ہو کر دوست نے کہا ٹیکسی لے کر جاتے ہیں، انہوں نے کہا، ٹیکسی کا انتظار کیا کرنا ہے، اتنی دیر ہم پیدل چلتے ہیں۔سڑک پر چلتے جا رہے تھے تو ایک بڑی سی گاڑی آ کے رُکی جو فلیگ کا رتھی اور جو دوست سرکاری افسر تھا ، اُس کو گاڑی والے نے نہیں پوچھا اِن کو کہنے لگا کہ آپ فلاں جگہ سیکریٹریٹ میں جانا چاہتے ہیں؟ انہوں نے کہا ہاں۔اُس نے کہا کہ ہاں مجھے بڑا دل میں خیال آیا کہ آپ وہاں جانا چاہتے ہیں۔آپ بیٹھیں۔انہوں نے کہا یہ گاڑی کس کی ہے؟ کہا کہ یہ فلاں جنرل صاحب کی گاڑی ہے اور میں وہاں جا رہا ہوں۔تو خیر وہاں اندر گئے اور فلیگ کا رتھی ، گیٹ بھی کھل گیا، کسی نے پوچھا بھی نہیں۔تو انہوں نے اپنے دوست کو کہا، دیکھو اگرتم ٹیکسی میں جاتے تو پندرہ سولہ روپے تمہارے خرچ ہونے تھے۔لیکن اس طرح واقف زندگی کی اللہ تعالیٰ مدد فرماتا ہے کہ ایک فلیگ کارڑ کی۔نہ میں اس کو جانتا ہوں ، نہ وہ مجھے جانتا ہے۔اُس نے تمہیں نہیں پوچھا بلکہ مجھے پوچھا۔اور میری وجہ سے اندر دفتر میں بھی چلے گئے۔گیٹ پر جو نام لکھنا ہوتا تھا، یا بتانا پڑنا تھا ، تعارف کرانا پڑنا تھا ، وہ بھی نہیں ہوا اور ہم سیدھے اندر چلے گئے۔تو یہ فضل ہیں جو واقف زندگی کے اوپراللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک خطبہ میں اپنی ایک مبشر رؤیا کا ذکر کیا تھا۔فرمایا کہ میں نے دیکھا کہ جیسے سیاحوں کی بس ہوتی ہے، ویسی ہی کسی بس میں میں اور میرے کچھ ساتھی سفر کرتے ہوئے ایک دریا کو عبور کرنے والے ہیں۔اب یہ جو بس کی حالت کا سفر ہے، یہ مجھے یاد نہیں لیکن یوں معلوم ہوتا ہے جیسے وہ بس پل کے پاس آ کر نیچے اُس کے دامن میں رُک گئی ہے۔اور کوئی وجہ ہے کہ وہ بس خود آگے نہیں بڑھ سکتی۔تو جیسے ایسے موقع پر مسافر اتر کر چہل قدمی شروع کر دیتے ہیں، اس طرح اس بس سے میں اُترا ہوں، یعنی خلیفہ اسیح الرابع اترے ہیں اور کچھ اور بھی مسافر اترے ہیں“۔کہتے ہیں لیکن میرے ذہن میں اس وقت اور کوئی نہیں آرہا مگر یہ اچھی طرح یاد ہے کہ مبارک مصلح الدین صاحب ( جو ہمارے واقف زندگی تحریک جدید کے کارکن ہیں) وہ ساتھ ہیں اور جیسے انتظار میں اور کوئی شغل نہ ہو تو انسان کہتا ہے کہ چلیں اب نہا ہی لیتے ہیں۔میں اور وہ ہم دونوں دریا میں چھلانگ لگا دیتے ہیں“۔تو کہتے ہیں ”میرے ذہن میں اُس وقت یہ خیال ہے کہ ہم تھوڑا سا تیر کے واپس آجائیں گے۔لیکن مبارک مصلح الدین مجھ سے تھوڑے سے دو ہاتھ آگے ہیں اور وہ مجھے کہتے ہیں کہ چلیں اب اسی طرح ہی دریا پار کرتے ہیں۔