خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 188
خطبات مسرور جلد 11 188 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 مارچ 2013ء مبارک مصلح الدین صاحب بھی تھے۔پھر بعض کو فرمایا کہ کالج میں مزید تعلیم حاصل کریں۔تعلیم الاسلام ہائی سکول میں نویں تک آپ پڑھے تھے۔پھر چنیوٹ میں جو تعلیم الاسلام ہائی سکول تھا، یہاں سے انہوں نے میٹرک فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا۔پھر 1953ء میں تعلیم الاسلام کا لج لاہور سے بی ایس سی کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور سے 1956ء میں پنجاب یونیورسٹی سے ریاضی میں ایم۔ایس سی کی۔اور پھر جیسا کہ یہ وقف تھے ، 1956 ء کو وکالت دیوان میں یہ حاضر ہوئے۔آپ کا پہلا تقر رامانت تحریک جدید میں کیا گیا۔چند ماہ وہاں کام کیا، پھر وکالت مال میں تقرر ہوا۔پھر آپ کو جماعت کا ایک تجارتی ادارہ تھا، ایشو افریقن ، وہاں بھجوایا گیا، چند سال وہاں رہے۔1964ء کے آغاز میں واپس تحریک جدید میں آئے اور وکالت مال ثانی میں 1972 ء تک بطور نائب وکیل المال ثانی رہے اور 1972ء سے 2001ء تک وکیل المال کے طور پر کام کیا۔اُس کے بعد 2001 ء سے آپ وفات تک وکیل التعلیم رہے۔اور اس کے علاوہ بھی جماعت کی مختلف کمیٹیوں اور بورڈ جو تھے ان کے ممبر رہے۔مجلس کار پرداز بہشتی مقبرہ کے ممبر بھی تھے۔بڑے صائب الرائے تھے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی سوچ سمجھ کے مشورہ دینے والے رگہرا علم رکھنے والے، ہر اُس کمیٹی میں جہاں یہ ممبر تھے ، ان کی حاضری ایک تو با قاعدہ ہوتی تھی، دوسرے با قاعدہ تحقیق کر کے علم حاصل کر کے جایا کرتے تھے۔خلافت سے بھی بے انتہا اخلاص اور محبت کا تعلق تھا۔قرآن کریم کے بھی بہت سے حصے آپ کو حفظ تھے۔تلاوت بڑی اچھی کیا کرتے تھے۔اکثر شوری کے موقع پر ان کو تلاوت کا موقع ملتا تھا۔خدمت کا سلسلہ ستاون سال پر محیط ہے۔ذیلی تنظیموں میں بھی خدام الاحمدیہ وغیرہ میں بڑا لمبا عرصہ کام کیا۔1964ء میں ان کی شادی ہوئی اور ان کی اہلیہ بھی صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پوتی تھیں۔کھارے کے رہنے والے صو بیدار غلام رسول صاحب ان کے والد تھے۔ان کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔آپ کی اہلیہ بیان کرتی ہیں کہ گھر میں آئے مہمان یا کام کرنے والے اگر سلسلہ کے نظام کے خلاف کبھی کوئی بات کرتے تو انہیں سختی سے منع فرماتے اور کبھی سلسلہ کے خلاف بات برداشت نہیں کرتے تھے۔ان کی اہلیہ لجنہ پاکستان کی نائب صدر ہیں۔کہتی ہیں جب لجنہ کے کام کے لئے مجھے دورہ جات کے لئے جانا ہوتا تو کبھی مجھے منع نہیں کیا بلکہ جماعتی کاموں کو ہمیشہ اولیت دیتے رہے اور بعض موقعے ایسے بھی آئے کہ کہا ٹھیک ہے لجنہ کا کام کرو، کھانا بھی خود پکانا پڑا تو پکا لیا۔میں نے کچھ سال پہلے ان کو بنگلہ دیش کے دورے پر بھجوایا تھا ان کے بیٹے منصور انجم صاحب لکھتے ہیں کہ وہاں ان کو شدید دل کی تکلیف شروع ہوئی اور سانس بھی رکنے لگ گیا تکلیف بڑی پرانی تقریباً تیس سال سے چل رہی تھی ، تو کہتے ہیں