خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 187
خطبات مسرور جلد 11 187 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 مارچ 2013ء طاقت نہیں۔اگر یہ کا روبار انسان کی طرف سے ہوتا تو تمہارے حملوں کی کچھ بھی حاجت نہ تھی۔خدا اس کے نیست و نابود کرنے کے لئے خود کافی تھا۔افسوس کہ آسمان گواہی دے رہا ہے اور تم نہیں سنتے۔اور زمین ضرورت ضرورت بیان کر رہی ہے اور تم نہیں دیکھتے ! اے بدبخت قوم اٹھ اور دیکھ کہ اس مصیبت کے وقت میں جو اسلام پیروں کے نیچے کچلا گیا اور مجرموں کی طرح بے عزت کیا گیا۔وہ جھوٹوں میں شمار کیا گیا۔وہ ناپاکوں میں لکھا گیا تو کیا خدا کی غیرت ایسے وقت میں جوش نہ مارتی۔اب سمجھ کہ آسمان جھکتا چلا آتا ہے اور وہ دن نزدیک ہیں کہ ہر ایک کان کو آنا الْمَوْجُود “ کی آواز آئے“۔(کتاب البریۃ۔روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 330-329) اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے کان کھولے اور یہ آواز سننے والے ہوں۔: اب اس کے بعد اس وقت میں ایک افسوسناک خبر بھی بتانا چاہتا ہوں جو مکرم چوہدری مبارک مصلح الدین احمد صاحب کی وفات کی ہے، جو تحریک جدید میں آجکل وکیل التعلیم تھے اور پرانے دیرینہ خادمِ سلسلہ تھے۔16 مارچ کو 79 سال کی عمر میں اُن کی وفات ہوئی ہے۔إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ۔آپ 21 جون 1934ء میں مکرم صوفی غلام محمد صاحب کے گھر میں پیدا ہوئے ، جو صحابی تھے۔آپ کے دادا بھی صحابی تھے۔آپ کے دادا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے 313 صحابہ میں سے تھے۔اور 5 جون 1895ء میں اُن کی بیعت تھی تقسیم ہند کے بعد حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کے ارشاد پر قادیان چلے گئے تھے، درویشان قادیان میں شامل ہو گئے تھے، قادیان میں ہی اُن کی وفات ہوئی اور بہشتی مقبرہ قادیان میں ہی دفن ہوئے۔مکرم چوہدری مبارک مصلح الدین صاحب کے والد صوفی غلام محمد صاحب کو بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زیارت کا شرف حاصل تھا۔اور مکرم صوفی صاحب کو بھی واقف زندگی کے طور پر مختلف حیثیتوں سے سلسلہ کی بھر پور خدمت کی توفیق ملی۔تعلیم الاسلام ہائی سکول میں بطور استاد بھی رہے ، سپر نٹنڈنٹ بورڈنگ ہاؤس تحریک جدیدر ہے۔ناظر بیت المال خرچ بھی رہے۔ناظر اعلی ثانی صدر انجمن احمد یہ بھی رہے۔غرض مختلف عہدوں پر ان کو خدمت کی توفیق ملی۔مصلح الدین صاحب کے دادا کا تعلق گجرات سے تھا۔ان کے والدین نے تو پہلے ہی ان کو وقف کے لئے پیش کیا ہوا تھا۔18 جون 1949ء کو انہوں نے خود اپنی زندگی سلسلہ کی خدمت کے لئے وقف کر دی۔اور ستمبر 1949 ء میں میٹرک کے بعد وقف کرنے والے آٹھ واقفین کو حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ربوہ میں انٹرویو کے لئے بلایا، اور خود ہی اُن کے پرچے سیٹ کئے اور خود ہی اُن کا امتحان لیا، انٹر ویولیا۔اُن میں ایک