خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 186 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 186

خطبات مسرور جلد 11 186 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 مارچ 2013ء ہو چکا ہے تو تم لوگوں کی مجال نہ تھی جو تم مجھے وہ دُکھ دیتے جو تم نے دیا۔یہ تو دیا جانا مقدر تھا، مسیح کے لئے پہلے لکھا گیا تھا ” پر ضرور تھا کہ وہ سب نوشتے پورے ہوں جو خدا کی طرف سے لکھے گئے تھے اور اب تک تمہیں ملزم کرنے کے لئے تمہاری کتابوں میں موجود ہیں جن کو تم زبان سے پڑھتے اور پھر تکفیر اور لعنت کر کے مہر لگا دیتے ہو کہ وہ بد علماء اور ان کے دوست جو مہدی کی تکفیر کریں گے اور مسیح سے مقابلہ سے پیش آئیں گے وہ تم ہی ہو۔(کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 329-328) پھر آپ فرماتے ہیں: پھر یہ بھی سوچو کہ جس حالت میں میں وہ شخص ہوں جو اس مسیح موعود ہونے کا دعویٰ رکھتا ہوں جس کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا ہے کہ وہ تمہارا امام اور خلیفہ ہے اور اس پر خدا اور اس کے نبی کا سلام ہے اور اس کا دشمن لعنتی اور اس کا دوست خدا کا دوست ہے۔اور وہ تمام دنیا کے لئے حکم ہو کر آئے گا۔اور اپنے تمام قول اور فعل میں عادل ہوگا۔تو کیا یہ تقویٰ کا طریق تھا کہ میرے دعوی کو سن کر اور میرے نشانوں کو دیکھ کر اور میرے ثبوتوں کا مشاہدہ کر کے مجھے یہ صلہ دیتے کہ گندی گالیاں اور ٹھٹھے اور ہنسی سے پیش آتے؟ کیا نشان ظاہر نہیں ہوئے؟ کیا آسمانی تائید میں ظہور میں نہیں آئیں؟ کیا ان سب وقتوں اور موسموں کا پتہ نہیں لگ گیا جو احادیث اور آثار میں بیان کی گئی تھیں؟ تو پھر اس قدر کیوں بیا کی دکھلائی گئی؟ ہاں اگر میرے دعوے میں اب بھی شک تھا یا میرے دلائل اور نشانوں میں کچھ شبہ تھا تو غربت اور نیک نیتی ، عاجزی اور نیک نیتی سے اور خدا ترسی سے اس شبہ کو دور کرایا ہوتا“۔(کتاب البریۃ۔روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 328) آپ فرماتے ہیں : ” میں نے بار بار کہا کہ آؤ اپنے شکوک مٹالو“۔اپنے شکوک اور شبہات جو ہیں مثالو پر کوئی نہیں آیا۔میں نے فیصلہ کے لئے ہر ایک کو بلایا۔پر کسی نے اس طرف رخ نہیں کیا۔میں نے کہا کہ تم استخارہ کرو اور رو رو کر خدا تعالیٰ سے چاہو کہ وہ تم پر حقیقت کھولے پر تم نے کچھ نہ کیا۔اور تکذیب سے بھی باز نہ آئے۔خدا نے میری نسبت سچ کہا کہ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔کیا یہ ممکن ہے کہ ایک شخص در حقیقت سچا ہو اور ضائع کیا جائے؟ کیا یہ ہوسکتا ہے کہ ایک شخص خدا کی طرف سے ہوا اور بر باد ہو جائے ؟ پس اے لوگو تم خدا سے مت لڑو۔یہ وہ کام ہے جو خدا تمہارے لئے اور تمہارے ایمان کے لئے کرنا چاہتا ہے۔اس کے مزاحم مت ہو۔اگر تم بجلی کے سامنے کھڑے ہو سکتے ہومگر خدا کے سامنے تمہیں ہرگز