خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 185 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 185

خطبات مسرور جلد 11 185 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 مارچ 2013ء ابن حزم اور معتزلہ کے قول کو مسیح کی وفات کے بارے میں صحیح قرار دیتا ہوں اور دوسرے اہل سنت کو غلطی کا مرتکب سمجھتا ہوں۔سو میں بحیثیت حکم ہونے کے ان جھگڑا کرنے والوں میں یہ حکم صادر کرتا ہوں کہ نزول کے اجمالی معنوں میں یہ گروہ اہل سنت کا سچا ہے کیونکہ مسیح کا بروزی طور پر نزول ہونا ضروری تھا۔ہاں نزول کی کیفیت بیان کرنے میں ان لوگوں نے غلطی کھائی ہے۔ایک حد تک تو سچا ہے کہ نزول بروزی ہونا تھا لیکن کیفیت میں غلطی کھائی۔نزول صفت بروزی تھا، نہ کہ حقیقی۔اور مسیح کی وفات کے مسئلہ میں معتزلہ اور امام مالک اور ابن حزم وغیرہ ہمکلام اُن کے بچے ہیں کیونکہ بموجب نص صریح آیت کریمہ یعنی آیت فَلَمَّا تَوَفَّيتنى کے مسیح کا عیسائیوں کے بگڑنے سے پہلے وفات پانا ضروری تھا۔یہ میری طرف سے بطور حکم کے فیصلہ ہے۔اب جو شخص میرے فیصلہ کو قبول نہیں کرتا وہ اُس کو قبول نہیں کرتا جس نے مجھی حکم مقرر فرمایا ہے۔اگر یہ سوال پیش ہو کہ تمہارے حکم ہونے کا ثبوت کیا ہے؟ اس کا یہ جواب ہے کہ جس زمانہ کے لئے حکم آنا چاہئے تھا وہ زمانہ موجود ہے۔اور جس قوم کی صلیبی غلطیوں کی حکم نے اصلاح کرنی تھی وہ قوم موجود ہے۔اور جن نشانوں نے اس حکم پر گواہی دینی تھی وہ نشان ظہور میں آچکے ہیں“۔آسمانی بھی اور زمینی بھی۔اور اب بھی نشانوں کا سلسلہ شروع ہے۔آسمان نشان ظاہر کر رہا ہے۔زمین نشان ظاہر کر رہی ہے اور مبارک وہ جن کی آنکھیں اب بند نہ رہیں۔“ 66 ( ضرورة الامام۔روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 496-495) اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کی آنکھیں کھولے اور حکم کو ماننے والے بنیں۔پھر آپ فرماتے ہیں :۔” میرے مخالف اپنے دلوں میں آپ ہی سوچیں کہ اگر میں درحقیقت وہی مسیح موعود ہوں جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ایک بازو قرار دیا ہے اور جس کو سلام بھیجا ہے اور جس کا نام حکم اور عدل اور امام اور خلیفہ اللہ رکھا ہے تو کیا ایسے شخص پر ایک معمولی بادشاہ کے لئے یا کسی کے لئے بھی لعنتیں بھیجنا، اس کو گالیاں دینا جائز تھا ؟ یہ ترکی کے بادشاہ کا ذکر ہے لیکن بہر حال اس کو میں چھوڑتا ہوں۔فرمایا کہ ذرہ اپنے جوش کو تھام کے سوچیں۔نہ میرے لئے، بلکہ اللہ اور رسول کے لئے کہ کیا ایسے مدعی کے ساتھ ایسا کر ناروا تھا؟ میں زیادہ کہنا نہیں چاہتا۔کیونکہ میرا مقدمہ تم سب کے ساتھ آسمان پر ہے۔اگر میں وہی ہوں جس کا وعدہ نبی کے پاک لبوں نے کیا تھا تو تم نے نہ میرا بلکہ خدا کا گناہ کیا ہے۔اور اگر پہلے سے آثار صحیحہ میں یہ وارد نہ ہوتا کہ اس کو دُکھ دیا جائے گا اور اس پر لعنتیں بھیجی جائیں گی۔جیسا کہ پہلے بھی ذکر