خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 184
خطبات مسرور جلد 11 184 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 مارچ 2013ء اسلام ابتدا میں بھی تدریجا ہی ترقی پذیر ہوا ہے اور پھر انتہا میں بھی تدریجاً اپنی پہلی حالت کی طرف آئے (کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 305 حاشیہ) -" پس اب یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے ماننے والوں کا بھی فرض ہے کہ اس فریضہ کی سرانجام دہی میں مصروف ہوں اور تو حید کو قائم کرنے کی کوشش کریں۔پھر آپ اپنے امام اور حکم ہونے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ : یادر ہے کہ امام الزمان کے لفظ میں نبی، رسول، محدث، محبۃ دسب داخل ہیں۔مگر جولوگ ارشاد اور ہدایت خلق اللہ کیلئے مامور نہیں ہوئے اور نہ وہ کمالات ان کو دیئے گئے وہ گوولی ہوں یا ابدال ہوں امام الزمان نہیں کہلا سکتے۔اب بال آخر یہ سوال باقی رہا کہ اس زمانہ میں امام الزمان کون ہے جس کی پیروی تمام عام مسلمانوں اور زاہدوں اور خواب بینوں اور مسلموں کو کرنی خدا تعالیٰ کی طرف سے فرض قرار دیا گیا ہے۔یعنی ہر مسلمان کو ، ہر نیک آدمی کو، جن کو خوا میں آتی ہیں اُن کو بھی ، جن کو الہام ہوئے ہیں مسیح کے آنے کے، امام کے آنے کے، اُن کو بھی سو میں اِس وقت بے دھڑک کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے فضل اور عنایت سے وہ امام الزمان میں ہوں اور مجھ میں خدا تعالیٰ نے وہ تمام علامتیں اور تمام شرطیں جمع کی ہیں اور اس صدی کے سر پر مجھے مبعوث فرمایا ہے جس میں سے پندرہ برس گزر بھی گئے اور ایسے وقت میں میں ظاہر ہوا ہوں کہ جب کہ اسلامی عقیدے اختلافات سے بھر گئے تھے۔اور کوئی عقیدہ اختلاف سے خالی نہ تھا۔ایسا ہی مسیح کے نزول کے بارے میں نہایت غلط خیال پھیل گئے تھے اور اس عقیدے میں بھی اختلاف کا یہ حال تھا کہ کوئی حضرت عیسی کی حیات کا قائل تھا اور کوئی موت کا۔اور کوئی جسمانی نزول مانتا تھا اور کوئی بروزی نزول کا معتقد تھا۔اور کوئی دمشق میں ان کو اتار رہا تھا اور کوئی مکہ میں۔اور کوئی بیت المقدس میں اور کوئی اسلامی لشکر میں۔اور کوئی خیال کرتا تھا کہ ہندوستان میں اتریں گے۔پس یہ تمام مختلف رائیں اور مختلف قول ایک فیصلہ کرنے والے حکم کو چاہتے تھے سو وہ حکم میں ہوں۔میں روحانی طور پر کسر صلیب کے لئے اور نیز اختلافات کے دُور کرنے کے لئے بھیجا گیا ہوں۔ان ہی دونوں امروں نے تقاضا کیا کہ میں بھیجا جاؤں۔میرے لئے ضروری نہیں تھا کہ میں اپنی حقیت کی کوئی اور دلیل پیش کروں کیونکہ ضرورت خود دلیل ہے۔جو حالات تھے وہ مسیح موعود کے آنے کا تقاضا کر رہے تھے اور ضرورت تھی اور یہی دلیل کافی تھی۔لیکن پھر بھی میری تائید میں خدا تعالیٰ نے کئی نشان ظاہر کئے ہیں۔اور میں جیسا کہ اور اختلافات میں فیصلہ کرنے کے لئے حکم ہوں۔ایسا ہی وفات حیات کے جھگڑے میں بھی حکم ہوں۔اور میں امام مالک اور