خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 174 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 174

خطبات مسرور جلد 11 174 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 مارچ 2013ء کے ساتھ جڑنے والوں اور اُن کی مخالفت کرنے والوں کی حالت کا نقشہ کھینچ کر ہمارے لئے تسلی اور سکینت کے سامان بھی فرما دیئے ہیں۔جو آیات میں نے شروع میں تلاوت کی ہیں ، وہ اس حالت کا نقشہ کھینچتی ہیں۔فرمایا قَالُوا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَيْنَا شِقْوَتُنَا وَكُنَّا قَوْمًا ضَالِينَ (المؤمنون: 107) وہ یعنی مخالفین یہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب! ہم پر ہماری بدنصیبی غالب آ گئی اور ہم ایک گمراہ قوم تھے۔ربنا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِن عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ (المؤمنون : 108) اے ہمارے رب! ہمیں اس سے نکال لے، یعنی اس دوزخ سے، جہنم سے ہمیں نکال دے۔پس اگر ہم پھر ایسا کریں تو یقیناً ہم ظلم کرنے والے ہوں گے۔قَالَ اخْسَنُوا فِيْهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ (المؤمنون: 109) وہ کہے گا ، اسی میں تم واپس لوٹ جاؤ۔وہیں رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو۔إِنَّهُ كَانَ فَرِيقٌ مِّنْ عِبَادِي يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرُ لَنَا وَارْحَمْنَا وَأَنتَ خَيْرُ الرَّحِمِينَ (المؤمنون: 110) یقیناً میرے بندوں میں سے ایک ایسا فریق بھی تھا جو کہا کرتا تھا اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے پس ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر اور تو رحم کرنے والوں میں سب سے بہتر ہے۔فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيَّا حَتَّى انْسَوْكُمْ ذِكْرِى وَكُنْتُمْ مِّنْهُمْ تَضْحَكُونَ (المؤمنون: 111) پس تم نے انہیں تمسخر کا نشانہ بنالیا، یہاں تک کہ اُنہوں نے تمہیں میری یاد سے غافل کر دیا۔اور تم اُن سے ٹھٹھا کرتے رہے۔اتي جَزَيْتُهُمُ الْيَوْمَ بِمَا صَبَرُوا أَنَّهُمْ هُمُ الْفَائِزُونَ (المؤمنون : 112 ) یقیناً آج میں نے اُن کو اُس کی جو وہ صبر کیا کرتے تھے یہ جزا دی ہے کہ یقینا وہی ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔پس یہ دشمنی کرنے والوں کا، زندگی کے فیشن سے دور جا پڑنے والوں کا انجام ہے کہ جب اگلے جہان میں جا کر ان پر حقیقت واضح ہوگی تو پھر کہیں گے کہ ہماری بدبختی ہمیں گھیر کر یہاں تک لے آئی ہے۔پس اے اللہ ! ہمیں ایک دفعہ لوٹا دے۔ہم کبھی نافرمانی نہیں کریں گے۔اگر ہم ایسا کریں تو ظلم کرنے والے ہوں گے۔لیکن خدا تعالیٰ فرمائے گا کہ یہ میرا قانون نہیں ہے۔اب اپنے کئے کی سزا بھگتو۔میرے سامنے سے دور ہو جاؤ اور تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہی ہے۔اسی میں داخل ہو جاؤ۔اب میں تمہاری کوئی بات کوئی چیخ و پکار نہیں سنوں گا۔پس اللہ تعالیٰ نے جو چیخ و پکار یا با تیں سنی تھیں وہ اس دنیا میں اُن کی سنتا ہے جو نیکوں کا عمل ہے، نہ کہ ان لوگوں کی جو یہاں ظلم کرنے کے بعد اگلے جہان میں جاکے ( چیخ و پکار ) کریں۔پس اللہ تعالیٰ نے یہ ایسے لوگوں سے سلوک کا ذکر فرمایا ہے جو اُس کے فرستادوں کی مخالفت