خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 175
خطبات مسرور جلد 11 175 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 مارچ 2013ء کرتے ہیں۔وہ خدا جو ہر وقت اپنے بندے کی معافی مانگنے کے انتظار میں ہے وہ اب انکار کر دے گا کہ اب وقت گزر گیا۔جب تم یہاں آگئے تو یہاں اعمال کی جزاملنی ہے۔جو اعمال تم اُس دنیا میں کر آئے ہو، جو حرکتیں تم اُس دنیا میں میرے بندوں کے دل چھلنی کر کے کر آئے ہو، میرے آگے جھکنے والےاور میرے دین کی عظمت قائم کرنے کی کوشش کرنے والوں سے جو سلوک تم نے روا رکھا، جس طرح وہ میرے کام کو آگے بڑھانا چاہتے تھے تم نے اُن کے کام میں روڑے اٹکانے کی کوشش کی، نہ صرف دوسروں کو اُن کی باتیں سننے سے روکا بلکہ اُن پر ظلم کی بھی انتہا کی۔میرے نام کا کلمہ پڑھنے والوں کو تم نے ہنسی اور تمسخر کا نشانہ بنا یا بلکہ اُن کے خون سے بھی کھیلتے رہے۔پس اب معافی کس چیز کی ؟ آج تمہاری کوئی بات نہیں سنی جائے گی۔جاؤ اور اپنے ٹھکانے جہنم میں جا کر رہو۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا آج یقیناً میرے وہ بندے جو میرے حکم کے مطابق ، میرے وعدے کے مطابق آنے والے فرستادے پر ایمان لائے ، وہی اس قابل ہیں کہ اُن پر میں رحم کروں، اُن کی باتیں سنوں، اُن کو اپنی رضا کی جنتوں میں جگہ دوں۔دنیا میں اُن پر کئے گئے ظلموں کی جزا اُن پر پیار کی نظر ڈال کر دوں۔اس دنیا میں اُن کی جزا کئی گنا بڑھا کر دوں۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے وہ لوگو! جو میرے بندوں پر ظلم کرتے رہے، ان پر ظلموں اور ان پر تمسخر نے تمہیں اس حد تک اندھا کر دیا کہ تم میری ذات سے بھی غافل ہو گئے۔میرے اس حکم کو بھول گئے کہ عمداً مومنوں کی دل آزاری کرنا اور اُن کا قتل کرنا تمہیں جہنم کی آگ میں لے جائے گا۔تو اپنے اس عہد کو بھول گئے کہ تم اللہ تعالیٰ اور اُس کے بندوں کے حقوق ادا کرو گے۔تم نے یہ عہد کیا ہے لیکن تم بھول گئے۔پس جب تم خدا تعالیٰ کے احکامات کو بھلا بیٹھے ہو، اُس کی یاد سے غافل ہو گئے ہو، اللہ تعالیٰ کے حکم کو اپنی مرضی کے مطابق توڑنے مروڑ نے لگ گئے ہو تو میرا اب تمہارے سے کوئی تعلق نہیں رہا۔تم نے مظلوموں کی جائیدادوں کو لوٹا، انہیں آگئیں لگائیں، اُن کی جائیدادوں پر قبضے کئے۔اُن کے کاروباروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔اگر مشترکہ کاروبار تھے تو اُن کے پیسے کھا گئے۔غرض جرموں کی ایک لمبی فہرست ہے جو تم کرتے رہے۔پس اب یہ جہنم کی سزا ہی تمہارا مقدر ہے۔یہ قرآن کریم کہ رہا ہے۔کسی قسم کی نرمی اور معافی کے بارے میں مجھ سے بات نہ کرو اور پھر ایمان لانے والوں اور رحم اور بخشش مانگنے والوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ یقیناً آج تمہارے صبر اور استقلال اور ایمان میں مضبوطی اور میرے سے تعلق کی وجہ سے ، میرے آگے جھکنے کی وجہ سے، میرا عبد بننے کی وجہ سے تم اُن لوگوں میں شمار کئے جاتے ہو جو کامیاب لوگ ہیں اور اللہ تعالیٰ کے پیار کے مورد بننے والے ہیں یا اللہ تعالیٰ کا رحم اور بخشش حاصل کرنے والے ہیں۔