خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 173 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 173

خطبات مسرور جلد 11 173 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 مارچ 2013ء سے نہیں ہے بلکہ ہم اُن ظلموں کا نشانہ ہیں۔ہم ان ظلموں کا نشانہ اس لئے بن رہے ہیں کہ اس زمانے میں ہم نے خدا تعالیٰ کے فرستادے اور پیارے کو مانا ہے۔پس یقیناً ہم خدا تعالیٰ کے لئے یہ سب کچھ برداشت کر رہے ہیں۔اگر اُس کی خاطر برداشت کر رہے ہیں تو وہ ضرور ہماری دعائیں سنے گا اور سن رہا ہے۔جماعت احمدیہ کی ترقی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ خدا تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا کہ دشمن کے منصوبے تو بڑے شدید تھے اور ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کا رحم اور فضل ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کئے گئے وعدے ہیں اور ہمارے ایمانوں میں مضبوطی پیدا کرنے کے لئے خدا تعالیٰ یہ نظارے دکھا رہا ہے کہ کئی جگہ دشمن کے منصوبوں کے تو ڑ کر رہا ہے اور صرف پاکستان میں نہیں، دنیا کے مختلف ممالک میں بھی مخالفت ہے لیکن جماعت کی ترقی رک نہیں رہی۔یورپین پارلیمنٹ میں جب میں گیا تو ایک اخباری نمائندے نے کہا کہ تمہاری دوسرے مسلمانوں کے مقابلے میں کیا حیثیت ہے یا تعداد کتنی ہے؟ تم لوگ اپنے آپ کو کہاں رکھتے ہو؟ تو مجھے یہ خیال آیا کہ اُس نے تعداد کی حقیقت پوچھنے کے بعد یہ سوال کرنا ہے کہ پھر تم جو تعلیم دیتے ہو، امن پسندی کی باتیں کرتے ہو، جس کوتم دنیا میں پھیلانا چاہتے ہو تو تمہاری تعداد اتنی تھوڑی ہے کہ تمہاری حیثیت کیا رہ جاتی ہے۔تو مجھے حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کا وہ جواب فوراً ذہن میں آیا جو انہوں نے یہاں یورپ کے ایک پریس نمائندے کو اس کے سوال پر دیا تھا کہ آپ کی تعداد کتنی ہے؟ انہوں نے فرمایا تھا کہ آج سے ترانوے سال پہلے جو ایک تھا وہ اب ایک کروڑ کے قریب ہے تو حساب کر لو کہ آئندہ اتنے عرصے میں ہم کتنے ہوں گے؟ (ماخوذ از دوره مغرب 1400ھ صفحہ 211 تا213) تو میں نے بھی اُسے کہا کہ جماعت احمدیہ کو اب 123 سال تو گزرچکے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم کروڑوں میں ہیں اور وہ وقت بھی انشاء اللہ تعالیٰ قریب ہے جب ہم ایک اثر رکھنے والی جماعت کے طور پر دنیا کو نظر آئیں گے۔جب میں نے یہ جواب دیا اور اس سے کہا کہ لگتا ہے کہ تمہارا سوال یہی تھا تو تسلی ہوگئی؟ اُس نے کہا ہاں میرے ذہن میں یہی تھا۔لیکن ہمیں یہ یادرکھنا چاہئے کہ ہمارا اثر دنیا کے مقاصد کے حصول کے لئے نہیں ہوگا بلکہ خدا تعالیٰ کی حکومت کو دنیا میں قائم کرنے کے لئے ،محبت اور پیار کو دنیا میں پھیلانے کے لئے ہوگا۔پس ہمیں کسی طرح بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کہ مخالفین کے ظلم ہمیں اپنے کام سے ہٹا سکتے ہیں یا ترقی میں روک بن سکتے ہیں۔ترقی تو ہمیں خدا تعالیٰ دکھا رہا ہے اور نہ صرف ہمیں ترقی کے نظارے دکھا رہا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں آئندہ آنے والی زندگی میں اپنے پیاروں