خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 145
خطبات مسرور جلد 11 145 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم مارچ 2013ء پھر حضرت ابن مسعود بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو بتاؤں کہ آگ کس پر حرام ہے؟ وہ حرام ہے ہر اُس شخص پر جولوگوں کے قریب رہتا ہے۔(سنن الترمذى كتاب القيامة والرقائق باب نمبر 45/110 حدیث نمبر 2488) یعنی لوگوں سے نفرت نہیں کرتا۔اُن سے نرم سلوک کرتا ہے۔اُن کے لئے آسانی مہیا کرتا ہے اور سہولت پسند ہے۔یہاں اس ضمن میں عہد یداروں کو خاص طور پر توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ یہ نیک جذبات اور رحم کا جذ بہ ہر عہد یدار میں ، خاص طور پر جماعتی عہدیدار میں ہونا چاہئے۔ویسے تو یہ ہر احمدی کا خاصہ ہونا چاہئے لیکن عہد یدار جو جماعتی خدمات سرانجام دے رہے ہیں اُن کو خاص طور پر کسی سائل کو یا کسی شخص کو جو دفتر میں بار بار بھی آتا ہے، رابطہ کرتا ہے، اُس سے تنگ نہیں آنا چاہئے اور کھلے دل سے ہمیشہ استقبال کرنا چاہئے۔ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ جماعت کے کسی بھی کارکن کو کسی بھی صورت میں جو اعلیٰ اخلاق ہیں اُن سے دُور نہیں بٹنا چاہئے یا کہیں ایسی صورت پیدا نہیں ہونی چاہئے جہاں ہلکا سا بھی شائبہ ہو کہ اعلیٰ اخلاق کا اظہار نہیں ہوا۔بلکہ کوشش ہو کہ جتنی زیادہ سہولت میسر ہو سکتی ہے، زیادہ سے زیادہ نرمی سے جتنی بات ہو سکتی ہے، وہ کرنے کی کوشش کریں۔پھر حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صدقہ سے مال میں کمی نہیں ہوتی اور جو شخص دوسرے کے قصور معاف کر دیتا ہے اللہ تعالیٰ اُسے اور عزت دیتا ہے۔(مسندالامام احمد بن حنبل جلد 3 صفحه 23 مسندابی هریرة حدیث نمبر 7205 عالم الكتب بيروت 1998ء) اور کسی کے قصور معاف کر دینے سے کوئی بے عزتی نہیں ہوتی۔اللہ کرے کہ یہ معیار ہماری جماعت کے ہر فرد میں قائم ہو جائے۔پھر حضرت انس سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو۔حسد نہ کرو۔بے رخی اور بے تعلقی اختیار نہ کرو۔باہمی تعلقات نہ توڑو بلکہ اللہ تعالیٰ کے بندے اور بھائی بھائی بن کر رہو۔کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ ناراض رہے اور اُس سے قطع تعلق رکھے۔(صحيح البخارى كتاب الادب باب الهجرة حديث نمبر 6076) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔