خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 146 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 146

خطبات مسرور جلد 11 146 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم مارچ 2013ء ایک دوسرے سے حسد نہ کرو۔ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کے لئے بڑھ چڑھ کر بھاؤ نہ بڑھاؤ۔ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو۔ایک دوسرے سے پیٹھ نہ موڑو۔یعنی بے تعلقی کا رویہ اختیار نہ کرو۔ایک دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرو بلکہ اللہ تعالیٰ کے بندے اور آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔مسلمان اپنے بھائی پر ظلم نہیں کرتا۔اُس کی تحقیر نہیں کرتا۔اُس کو شرمندہ یا رُسوا نہیں کرتا۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سینہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا۔تقویٰ یہاں ہے۔اور یہ الفاظ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ دہرائے۔پھر فرمایا۔انسان کی بدبختی کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقارت کی نظر سے دیکھے۔ہر مسلمان کا خون، مال اور عزت اور آبرو دوسرے مسلمان پر حرام اور اُس کے لئے واجب الاحترام ہے۔(صحیح مسلم کتاب البر والصلة والآداب باب تحريم ظلم المسلم و خذله و احتقاره و دمه و عرضه و ماله حدیث نمبر (6541) اللہ کرے کہ یہ تقویٰ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں سب سے بڑھ کر تھا، وہ ہم میں سے ہر ایک آپ کے دل، آپ کے اُسوہ پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے حاصل کرنے کی کوشش کرے۔حضرت ابو ہریرہ بیان فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا۔کہاں ہیں وہ لوگ جو میرے جلال اور میری عظمت کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے۔آج جبکہ میرے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں۔میں انہیں اپنے سایہ رحمت میں جگہ دوں۔(صحيح مسلم كتاب البر والصلة والآداب باب فی فضل الحب في الله تعالٰی حدیث نمبر 6548) اللہ کرے کہ ہم آپس کے تعلقات میں محبت و مودت کے جذبات اور ایک دوسرے کے لئے رحم کو بڑھانے والے ہوں۔وہ جماعت بن جائیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی روشنی میں جس طرح اُن کی خواہش تھی آپ ہمیں بنانا چاہتے تھے۔دنیا کے امن کی بھی جماعت احمد یہ ضمانت بن جائے۔مسلمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کو مان کر آپس کے پیار و محبت اور مودت کی اہمیت کو سمجھنے والے بن جائیں۔مسلمان لیڈر جو آجکل اپنے ہم وطنوں پر ظلم روا ر کھے ہوئے ہیں، اس کو بند کر کے انصاف اور رحم کے ساتھ اپنی رعایا سے سلوک کرنے والے ہوں۔عوام بھی مفاد پرستوں کے ہاتھوں میں کھیلنے کی بجائے ، اُن کا آلہ کاربننے کی بجائے عقل سے کام لیں اور خدا تعالیٰ کے صحیح حکموں کو تلاش کریں اور اُن پر چلنے کی کوشش کریں۔مسلمان ممالک پر جو خوفناک اور شدت پسند گروہوں نے قبضہ کیا ہوا ہے، اپنے مفادات کو ہر صورت میں ترجیح دینے والوں نے جو قبضہ کیا ہوا ہے،