خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 144 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 144

خطبات مسرور جلد 11 144 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ یکم مارچ 2013ء اچھا سلوک کرتا ہے۔اور اُن کی ضروریات کا خیال رکھتا ہے۔(الجامع لشعب الايمان للبيهقى جلد نمبر 9 صفحه نمبر 523 كتاب التاسع والأربعون من شعب الايمان وهو باب في طاعة أولى الأمر بفصولها حديث نمبر 7048 مكتبة الرشد 2004ء) ضروریات کا خیال اُسی صورت میں رکھا جا سکتا ہے جب ایک دوسرے کے لئے قربانی کی روح ہو، رحم کا جذبہ ہو، درد ہو، پیار ہو ، محبت ہو۔حضرت عبد اللہ بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رحم کرنے والوں پر رحمان خدا رحم کرے گا۔اہلِ زمین پر رحم کرو تو آسمان پر اللہ تم پر رحم کرے گا۔(سنن الترمذى كتاب البر والصلة باب ما جاء فى رحمة المسلمین حدیث نمبر 1924) پھر اسی طرح حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تین باتیں جس میں ہوں اللہ تعالیٰ اُسے اپنی حفاظت اور رحمت میں رکھے گا اور اُسے جنت میں داخل کرے گا۔پہلی یہ کہ وہ کمزوروں پر رحم کرے۔دوسری یہ کہ وہ ماں باپ سے محبت کرے۔تیسری یہ کہ خادموں اور نوکروں سے اچھا سلوک کرے۔(سنن الترمذى كتاب القيامة والرقائق باب 48/113 حدیث نمبر 2494) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اللہ تعالیٰ نرمی کرنے والا ہے۔نرمی کو پسند کرتا ہے۔نرمی کا جتنا اجر دیتا ہے اتنا سخت گیری کا نہیں دیتا بلکہ کسی اور نیکی کا بھی اتنا اجر نہیں دیتا۔(صحیح مسلم کتاب البر والصلة والآداب باب فضل الرفق حدیث نمبر 6601) یعنی نرمی سے جو مسائل حل ہو جاتے ہیں اُن کو نرمی سے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ہی روایت فرمائی ہے کہ کسی چیز میں جتنا بھی رفق اور نرمی ہو اتنا ہی یہ اُس کے لئے زینت کا موجب بن جاتا ہے۔اُس میں خوبصورتی پیدا ہوتی ہے اور جس سے رفق اور نرمی چھین لی جائے وہ اتنی ہی بدنما ہو جاتی ہے۔سختی جو ہے وہ عمل کو بھی ) بدنما کر دیتی ہے۔(صحیح مسلم کتاب البر والصلة والآداب باب فضل الرفق حدیث نمبر 6602) اور لوگ پھر اُس سے دور بھاگتے ہیں۔یعنی رفق اور نرمی میں حسن ہی حُسن ہے۔