خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 142 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 142

خطبات مسرور جلد 11 142 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم مارچ 2013ء سامنے رکھ کر اور اس پر عمل کرتے ہوئے ، اُس وقت تک چاہے کوئی جتنا بھی بڑا جبہ پوش ہو وہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں حقیقی مومن نہیں ہے۔اور جو حقیقی مومن نہیں ہے اُس نے دوسروں کی رہنمائی کیا کرنی ہے۔گزشتہ دنوں پاکستان میں ایک مولوی صاحب نے بیان دیا کہ احمدی ناسور ہیں۔پتہ نہیں کہاں کے ناسور بیان کرنا چاہتا تھا، ملک کے یا کہاں کے؟۔بہر حال احمدی تو ناسور نہیں ہیں۔احمدی تو اللہ تعالیٰ کی حقیقی تعلیم سے دنیا کو روشناس کروا کر شفاء للناس کا کردار ادا کر رہے ہیں۔احمدی وہ ہیں جن کی باتیں سن کر غیر مسلم بھی کہتے ہیں، اسلام کے خلاف لکھنے اور بولنے والے بھی کہتے ہیں کہ تمہارے اسلام اور دوسرے اسلام یا دوسرے علماء کے اسلام میں فرق ہے۔یہ کیوں ہے؟ تب ہمیں بتانا پڑتا ہے کہ ہمارا اسلام وہ ہے جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسلام تھا۔ہمارا اسلام وہ ہے جو قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق ہے۔اس کے مقابلے میں مولویوں کا جو اسلام ہے وہ ان کا خود ساختہ اسلام ہے اور مذہب کے نام پر ذاتی مفادات کا آئینہ دار ہے۔اللہ تعالیٰ مسلم امہ کی آنکھیں بھی کھولے، اُن کے سینے بھی کھولے اور انہیں حقیقی اسلام سے روشناس کروائے جو آج آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق اور عاشق صادق کے ذریعہ سے دنیا میں پھیل رہا ہے۔بہر حال ان باتوں کے علاوہ جیسا کہ میں نے شروع میں کہا تھا کہ ہم اپنے بارے میں بھی سو فیصد ضمانت نہیں دے سکتے کہ ہم ہر طرح، ہر سطح پر يَصِلُونَ مَا آمَرَ اللهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ پر عمل کرنے والے ہیں یا اس کی مثال کہلانے والے ہیں۔اگر ہر کوئی اپنے جائزے لے تو اس کی طرف توجہ پیدا ہوگی اور یہ صورت نظر آئے گی کہ ہمیں بھی کسی خوش فہمی میں نہیں پڑنا چاہئے۔بڑے پیمانے پر نہ سہی، چھوٹے پیمانے پر ہی ، اپنے ماحول میں ہی ہمیں اپنی یہ حالت نظر نہیں آتی اور جب چھوٹے پیمانے پر اس قسم کی حرکتیں شروع ہو جائیں تو پھر یہی بڑے بگاڑ بن جایا کرتی ہیں۔ہم اللہ تعالیٰ کی بخشش اور اُس کی رحمت کے اپنے لئے تو خواہاں ہوتے ہیں لیکن دوسروں پر رحم کرنا اور معاف کرنا نہیں جانتے۔اگر ہم رحم کے جذبے سے دوسروں کا خیال رکھنے والے ہوں تو جماعت کے بہت سے تربیتی مسائل اور قضائی مسائل بھی خود بخود حل ہو جائیں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا اَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَكُمْ وَاللهُ غَفُورٌ رَّحِیمٌ ( النور : 23) کہ پس چاہئے کہ معاف کر دیں اور درگزر کریں۔کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں بخش دے اور اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس بارے میں ایک جگہ فرمایا ہے کہ :