خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 141 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 141

خطبات مسرور جلد 11 141 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ یکم مارچ 2013ء یہ لوگ توہین رسالت کے مرتکب نہیں ہورہے۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔(بخاری کتاب الایمان باب المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده) کیا آجکل کے علماء اپنے آپ کو مسلمان ہونے کی اس تعریف کا حقدار ٹھہرا سکتے ہیں؟ احمد یوں کو تو انہوں نے قانونی اغراض کے لئے اسلام سے باہر نکال دیا جس میں تمام فرقے اکٹھے ہو گئے۔ہمیں تو بہر حال اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔خدا تعالیٰ ہمیں مسلمان کہتا ہے۔ہم کلمہ پڑھتے ہیں اور دل سے خدام ختم المرسلین ہیں۔لیکن جو احمدیوں کے علاوہ دوسرے فرقے ہیں اُن پر بھی اب دیکھیں کس قدر ظلم ہو رہے ہیں۔کیوں کوئٹہ پاکستان میں دو مختلف موقعوں پر جو درجنوں معصوموں، بچوں اور عورتوں کو قتل کر دیا گیا؟ آخر کس جرم میں؟ اس لئے کہ وہ ایسے فرقے سے تعلق رکھتے ہیں جو انہیں پسند نہیں۔اُن کی تعداد اتنی اکثریت میں نہیں۔پس جو قانون انہوں نے احمدیوں کے خلاف اپنے ظلم کے ہاتھ لمبے کرنے کے لئے بنایا تھا اور اس میں سارے شامل ہو گئے تھے اب وہی اُن میں سے شیعوں کے اوپر بھی الٹ رہا ہے۔اب وہ اس کے ٹارگٹ بن رہے ہیں۔اور پھر یہ ظلم آپس میں ہر فرقے میں دوبارہ ایک دوسرے پر بھی ہوگا۔ہر فرقہ دوسرے فرقے پر کرے گا۔دوبارہ اس لئے میں نے کہا ہے کہ اس سے پہلے جو کچھ ہوتا رہا ہے،اس میں یہ صرف احمدیوں کے مقابلے میں اکٹھے ہو گئے تھے۔لیکن جب ایک منہ کو نشے کا ایک مزہ لگ جاتا ہے تو پھر اُس کی کوئی انتہا نہیں رہتی۔یہ اب ان کے منہ کے مزے ہی لگے ہوئے ہیں۔منہ کو خون جو لگا ہوا ہے تو اب یہ ایک دوسرے کا خون بھی کریں گے اور یہی کچھ یہاں ہو بھی رہا ہے۔احمدی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحیح مقام کو سمجھتے ہیں، ہم تو اس حدیث کو صرف مسلمانوں تک محدود نہیں رکھتے بلکہ ہمارے نزدیک تو اس کی وسعت دنیا کے ہر امن پسند انسان تک ہے۔عموماً یہی کہا جاتا ہے کہ مسلمان مسلمان سے محفوظ ہے لیکن حضرت مصلح موعود نے اس کی وسعت کو اس طرح بیان فرمایا ہے کہ صرف مسلمان تک محدود نہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے ہر سلامتی پسند اور امن پسند شخص محفوظ رہتا ہے۔پس یہ ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کا حقیقی ادراک جو تقویٰ سے ملتا ہے۔اُن علماء کے پاس تو یہ تقویٰ ہے نہیں۔وہ تو اپنی اناؤں اور مفادات کے مارے ہوئے ہیں۔نتیجہ اس فہم و ادراک سے بھی محروم ہیں۔پس جب تک ان کے ذاتی مفادات ختم نہیں ہوتے ، جب تک ان میں قربانی کا مادہ پیدا نہیں ہوتا اور قربانی کا مادہ پیدا ہوتا ہے رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ کی روح کو