خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 143 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 143

خطبات مسرور جلد 11 143 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ یکم مارچ 2013ء لوگوں کے گناہ بخشو اور ان کی زیادتیوں اور قصوروں کو معاف کروں۔کیا تم نہیں چاہتے کہ خدا بھی تمہیں معاف کرے اور تمہارے گناہ بخشے اور وہ تو غفور و رحیم ہے“۔چشمه معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 387 ) پس اللہ تعالیٰ کی بخشش کا کون ہے جو خواہشمند نہ ہو۔ہر وہ شخص جو خدا تعالیٰ کی ذات پر یقین رکھتا ہے جس کو اس دنیا میں بھی خدا تعالیٰ کے رحم اور فضل کی ضرورت ہے اور اگلے جہان میں بھی، وہ تو اللہ تعالیٰ سے اپنے قصوروں کے معاف کرانے کا ہر وقت حریص ہوتا ہے۔اگر یہ ٹھیک بات ہے تو پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم یہ چاہتے ہو تو پھر تم بھی میری اس صفت کو اپناؤ اور میرے بندوں کے ساتھ اپنے تعلقات میں رحم کے جذبات کو زیادہ سے زیادہ ابھارو۔اس ضمن میں مزید کچھ بیان کیے بغیر چند احادیث میں آپ کے سامنے رکھوں گا۔کیونکہ آسان حدیثیں ہی ہیں اور اس مضمون کو مزیدا جا گر کرتی ہیں۔حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص رزق کی فراخی چاہتا ہے یا خواہش رکھتا ہے کہ اُس کی عمر اور ذکر خیر زیادہ ہو، اسے صلہ رحمی کا خُلق اختیار کرنا چاہئے۔(صحیح مسلم كتاب البر والصلة والآداب باب صلة الرحم وتحريم قطيعتها حدیث نمبر 6523) یعنی اپنے رشتہ داروں سے اچھے تعلق رکھنے چاہئیں۔اپنے قریبیوں سے اچھے تعلق رکھنے چاہئیں۔ان کے قصور معاف کرنے چاہئیں۔حضرت عمرو بن شعیب اپنے باپ اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اُس شخص کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں جو چھوٹے پر رحم نہیں کرتا، بڑوں کا شرف نہیں پہچانتا۔یعنی اُس کی عزت نہیں کرتا۔(سنن الترمذى كتاب البر والصلة باب ما جاء فى رحمة الصبيان حدیث نمبر (1920) اب یہ حدیثیں بچپن میں بھی لوگ پڑھتے ہیں، یہاں بھی کلاسوں میں پڑھائی جاتی ہیں۔کئی جگہ یہ ذکر ہوتا ہے۔ہم سنتے ہیں لیکن سننے کے بعد مسجد سے باہر نکل کے یا جلسہ گاہ سے باہر نکل کے بھول جاتے ہیں۔حضرت عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمام مخلوقات اللہ تعالیٰ کی عیال ہیں۔پس اللہ تعالیٰ کو اپنی مخلوقات میں سے وہ شخص پسند ہے جو اُس کے عیال کے ساتھ