خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 140 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 140

خطبات مسرور جلد 11 140 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ یکم مارچ 2013ء گروہ بندیاں ہیں اور ایک دوسرے کو پھاڑ ڈالنے پر تلے ہوئے ہیں۔کیوں اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا ادراک نہ خود حاصل کرتے ہیں نہ اپنے پیچھے چلنے والوں کو کرواتے ہیں کہ وَيَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَيَخَافُونَ سُوءَ الْحِسَاب- پس ان کو نہ اپنے رب کا خوف ہے ، نہ آخری دن کے حساب کتاب کا۔اور معصوم اور دین سے بے بہرہ عوام کو یہ لیڈر بھی اور یہ فتوے دینے والے بھی اپنی من گھڑت تعلیم اور تفسیر سے دھوکہ دیتے چلے جا رہے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عظیم پیغام کو جو رہتی دنیا تک جاری رہنے والا ہے کیونکہ آپ نے یہ فرمایا تھا کہ اس پیغام کو آگے پہنچاتے رہنا۔یہ پیغام اُمت کو دیا تھا کہ بھول نہ جانا، اس کو یہ علماء کہلانے والے لوگ بھول جاتے ہیں بلکہ نہیں، بھولتے نہیں۔یہ کہنا چاہئے کہ اپنے مفادات کی خاطر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو پس پشت ڈال کر ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کوکوئی اہمیت نہ دے کر یقیناً یہ توہین رسالت کے مرتکب ہورہے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع کے موقع پر بڑا واضح فرمایا تھا کہ آج کے دن تمہارے خون ، مال ، تمہاری آبروئیں تم پر حرام اور قابلِ احترام ہیں۔بالکل اسی طرح جس طرح تمہارا یہ دن تمہارے اس شہر میں تمہارے اس مہینہ میں واجب الاحترام ہے۔اے لوگو! عنقریب تم اپنے رب سے ملو گے، وہ تم سے پوچھے گا کہ تم نے کیسے عمل کئے۔دیکھو میرے بعد دوبارہ کا فرنہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے لگ جاؤ۔اور آگاہ رہو تم میں سے جو یہاں موجود ہے اُن لوگوں کو پیغام پہنچا دے جو کہ موجود نہیں۔کیونکہ ہو سکتا ہے کہ جس کو پیغام پہنچایا جائے وہ سننے والے سے زیادہ سمجھ دار ہو۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام ٹھیک ٹھیک پہنچا دیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ تین بار دہرائے۔حضرت ابو بکر سے یہ روایت ہے کہ ہم نے عرض کیا کہ ہاں یا رسول اللہ ! آپ نے اللہ تعالیٰ کا پیغام ٹھیک ٹھیک پہنچا دیا ہے۔اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ تعالیٰ ! گواہ رہنا۔(صحیح بخاری کتاب المغازى باب حجة الوداع حديث نمبر 4406) (سنن ابن ماجه کتاب المناسك باب الخطبة يوم النحر حديث نمبر 3055) اب یہ پیغام ہے جو ان کومل رہا ہے اور یہ عمل ہیں جو ہمیں نظر آ رہے ہیں۔پس اس واضح ارشاد کے بعد نام نہاد علماء کے پاس کیا رہ جاتا ہے کہ ظلم و تعدی کے بازار گرم کریں اور آپس میں دین کے نام پر ایک دوسرے کی گردنیں کاٹیں۔کیا اس ارشاد پر عمل نہ کر کے بلکہ پامال کر کے خود