خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 139
خطبات مسرور جلد 11 139 خطبه جمعه فرموده مورخہ یکم مارچ 2013ء کی کیفیت ہے۔نام نہاد میں نے اس لئے کہا کہ بعض بڑی طاقتیں، بڑے ممالک کی فوجوں نے بھی زبردستی اپنی برتری ثابت کرنے کے لئے وہاں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں اور جنگ کا ماحول بنایا ہوا ہے کہ ہم علاقے کے امن کے لئے آئے ہیں۔حالانکہ اگر مسلمان پہلے ہی اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق رُحَمَاء بَيْنَهُمْ پر عمل کرتے ، اصلاح کی کوشش کرتے اور اگر کسی وجہ سے فتنہ یا جنگ کی کیفیت ہو ہی جاتی تو فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ پر عمل کرتے کہ پس اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کروایا کرو۔تو غیروں کو آنے کی نہ ضرورت ہوتی ، نہ جرات ہوتی۔بہر حال میں یہ کہ رہا تھا کہ ان جنگ اور فساد میں ملوث ملکوں کی حالت تو ظاہر ہی ہے لیکن جن ملکوں میں بظاہر امن نظر آتا ہے، وہاں بھی مسلمان مسلمان کی گردنیں کاٹ رہا ہے۔بنگلہ دیش کو ہی دیکھ لیں۔حکومت اگر کسی کے خلاف کوئی قانونی کارروائی کر رہی ہے۔قانونی طور پر کسی لیڈر کو سزا دی جاتی ہے تو اُس کے ہمدرد یا اُس سے تعلق رکھنے والے کھڑے ہو جاتے ہیں اور مار دھاڑ اور ظلم و تعدی شروع ہو جاتی ہے۔جو معصوم ہیں ان کا بھی قتل ہونا شروع ہو جاتا ہے۔تو یہ کونسا اسلام ہے؟ کونسی قرآنی تعلیم ہے جس پر یہ مسلمان عمل کر رہے ہیں۔جائزے لیں تو یہی نظر آئے گا کہ اس وقت ظلم و بربریت مسلمان ملکوں میں سب سے زیادہ ہے۔یا اسلام کے نام پر مسلمان اس میں ملوث ہیں۔یہ مسلمانوں کی یا نام نہاد مسلمانوں کی بدقسمتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تو حقیقی مسلمان کی نشانی یہ بتائی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق کی وجہ سے اُس کا تعلق اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے مضبوط ہوتا ہے اور پھر خاص طور مسلمان کے دوسرے مسلمان سے تعلق میں تو ایک خاص بھائی چارے کا بھی تعلق قائم ہو جاتا ہے۔یہ بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے کہ جتنی توجہ نیک اعمال کرنے کی طرف اسلام نے دلائی ہے۔امن، پیار اور محبت کے راستوں کی طرف چلنے کی توجہ اسلام نے دلائی ہے اتنے ہی مسلمان زیادہ بگڑ رہے ہیں۔اتنے ہی زیادہ ان لوگوں میں ظالم پیدا ہورہے ہیں۔عیسائی ملکوں میں دیکھیں تو مسلمانوں کو ہی فتنے کا موجب ٹھہرایا جاتا ہے۔اُن ملکوں کی جیلوں میں بھی کہا یہ جاتا ہے کہ آبادی کے لحاظ سے اگر نسبت دیکھیں تو مسلمان قیدی زیادہ ہیں۔تو یہ مسلمانوں کی بگڑی ہوئی حالت ہی تھی جس کو سنوارنے کے لئے مسیح موعود نے آنا تھا اور آیا لیکن یہ کہتے ہیں کہ نہ ہمیں کسی مصلح کی ضرورت ہے اور نہ کسی مسیح کی ضرورت ہے۔ہمارے لئے جو ہماری تعلیم ہے، یہی کافی ہے۔اگر تعلیم کافی ہے تو علماء نے اپنے ذاتی اناؤں اور مقاصد کے لئے یہ جو مختلف قسم کے گروہ بنائے ہوئے ہیں یہ کس لئے ہیں؟ ان کو صحیح اسلامی تعلیم پر کیوں نہیں چلاتے۔کیوں اتنی زیادہ